کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حدیبیہ سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ پر سورۃ الفتح کے نزول کا بیان۔
حدیث نمبر: 18811
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّامَاتِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَأَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: ٢] مَرْجِعَهُمْ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ يُخَالِطُهُمُ الْحُزْنُ وَالْكَابَةُ، وَقَدْ نُحِرَ الْهَدْيُ فَقَالَ: " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَاتٌ هِيَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الدُّنْيَا ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْنَا مَا يَفْعَلُ اللهُ بِكَ فَمَا يَفْعَلُ بِنَا؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ: {لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ} [الفتح: ٥] حَتَّى بَلَغَ رَأْسَ الْآيَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا (1) لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾ [سورة الفتح: 1-2] ”ہم نے آپ کو واضح فتح عطا کی، تاکہ اللہ آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے“، جب آپ ﷺ حدیبیہ سے پلٹے تو غم و پریشانی تھی۔ آپ ﷺ نے قربانی کو نحر کیا اور فرمایا: ”یہ جو آیت میرے اوپر نازل ہوئی مجھے تمام دنیا سے زیادہ عزیز ہے“۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ ہمارے اور آپ کے ساتھ کیا کرے گا؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ﴾ [سورة الفتح: 5] ”کہ اللہ مومن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغات میں داخل فرمائیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں“ یہاں تک کہ مکمل آیت تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 18812
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْحَافِظَ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: ١]، قَالَ: فَتْحُ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: هَنِيئًا مَرِيئًا يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا لَكَ فَمَا لَنَا؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ} [الفتح: ٥]. قَالَ شُعْبَةُ: فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَحَدَّثْتُهُمْ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِقَتَادَةَ فَقَالَ: أَمَّا الْأَوَّلُ فَعَنْ أَنَسٍ، وَأَمَّا الثَّانِي {لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ} [الفتح: ٥] فَعَنْ عِكْرِمَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ [سورة الفتح: 1] سے مراد حدیبیہ کی فتح ہے، ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! مبارک ہو، یہ آپ کے لیے ہے اور ہمارے لیے کیا ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [سورة الفتح: 5]۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے کوفہ میں قتادہ اور انس سے بیان کیا اور بصرہ میں صرف قتادہ سے بیان کیا تو وہ فرمانے لگے: پہلے الفاظ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہیں اور دوسرے الفاظ یعنی آیت: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [سورة الفتح: 5] یہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 18813
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ، ح قَالَ: ⦗٣٧٣⦘ وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، نا أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ صِفِّينَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا، وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: فَأَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ قَالَ: " بَلَى "، قَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي أَنْفُسِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ قَالَ: " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللهُ ". قَالَ: فَانْطَلَقَ ابْنُ الْخَطَّابِ وَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ قَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ، وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللهُ أَبَدًا. قَالَ: فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَفَتْحٌ هُوَ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ السُّلَمِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عُبَيْدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَمَا كَانَ فِي الْإِسْلَامِ فَتْحٌ أَعْظَمَ مِنْهُ، كَانَتِ الْحَرْبُ قَدْ أَجْحَرَتِ النَّاسَ، فَلَمَّا آمَنُوا لَمْ يُكَلَّمْ بِالْإِسْلَامِ أَحَدٌ يَعْقِلُ إِلَّا قَبِلَهُ، فَلَقَدْ أَسْلَمَ فِي سَنَتَيْنِ مِنْ تِلْكَ الْهُدْنَةِ أَكْثَرُ مِمَّنْ أَسْلَمَ قَبْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے صفین کے دن کہا: اے لوگو! اپنے اوپر الزام لگاؤ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں موجود تھے۔ اگر لڑائی ہوتی ہم ضرور لڑتے لیکن یہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان صلح تھی، تو اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم حق پر اور دشمن باطل پر ہیں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہمارے مقتول جنت اور ان کے مقتول جہنم میں نہ جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے مقتول جنتی اور ان کے جہنمی ہیں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں، جب کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ مجھے ضائع نہ کریں گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور کہا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم حق پر اور وہ باطل پر ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے جہنم میں نہ جائیں گے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے مقتول جنتی اور ان کے جہنمی ہیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ بھی نہیں فرمایا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن خطاب! وہ اللہ کے نبی ہیں، اللہ انہیں ضائع نہ کرے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے قرآن نازل کیا تو آپ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر سنایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ فتح ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ فتح ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ خوشی خوشی واپس چلے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: اسلام میں اس سے بڑی فتح کوئی نہ تھی، جب لوگوں کی لڑائی ختم ہوگئی۔ پھر کوئی عقل مند انسان اسلام کی بات سن کر قبول کیے بغیر نہ رہا، دو سال صلح کی مدت میں جتنے مسلمان ہوئے اس سے پہلے نہ ہوئے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: اسلام میں اس سے بڑی فتح کوئی نہ تھی، جب لوگوں کی لڑائی ختم ہوگئی۔ پھر کوئی عقل مند انسان اسلام کی بات سن کر قبول کیے بغیر نہ رہا، دو سال صلح کی مدت میں جتنے مسلمان ہوئے اس سے پہلے نہ ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 18814
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فِي قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ وَفِيهَا مُدْرَجًا: ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا، فَلَمَّا أَنْ كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْفَتْحِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: ١] فَكَانَتِ الْقَضِيَّةُ فِي سُورَةِ الْفَتْحِ وَمَا ذَكَرَ اللهُ مِنْ بَيْعَةِ رَسُولِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَلَمَّا أَمِنَ النَّاسُ وَتَفَاوَضُوا لَمْ يُكَلَّمْ أَحَدٌ بِالْإِسْلَامِ إِلَّا دَخَلَ فِيهِ، وَلَقَدْ دَخَلَ فِي تَيْنِكَ السَّنَتَيْنِ فِي الْإِسْلَامِ أَكْثَرُ مِمَّا كَانَ فِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ، وَكَانَ صُلْحُ الْحُدَيْبِيَةِ فَتْحًا عَظِيمًا.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ، مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیبیہ (کے واقعہ) میں درج ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ واپس پلٹے، ابھی مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ سورہ الفتح مکمل نازل ہوگئی: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ [سورة الفتح: 1]، یہ فیصلہ سورہ الفتح میں ہے، جو صحابہ کا رسول اللہ ﷺ کی درخت کے نیچے بیعت کرنا ہے، جب تمام لوگ امن میں ہو گئے، کسی نے بھی اسلام کے متعلق بات نہ کی لیکن جو بھی اسلام کے متعلق سنتا وہ ضرور اسلام قبول کر لیتا، ان دو سال کے اندر اسلام میں زیادہ لوگ داخل ہوئے اور صلح حدیبیہ عظیم فتح تھی۔
حدیث نمبر: 18815
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فِينَا فَتْحًا، وَنَعُدُّ نَحْنُ الْفَتْحَ ⦗٣٧٤⦘ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، نَزَلْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَهِيَ بِئْرٌ، فَوَجَدْنَا النَّاسَ قَدْ نَزَحُوهَا فَلَمْ يَدَعُوا فِيهَا قَطْرَةً، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِدَلْوٍ فَنَزَعَ مِنْهَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ بِفِيهِ فَمَجَّهُ فِيهَا، وَدَعَا اللهَ فَكَثُرَ مَاؤُهَا حَتَّى صَدَرْنَا وَرَكَائِبُنَا، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَالِكِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم فتحِ مکہ کو عظیم فتح شمار کرتے ہو، جبکہ ہمارے نزدیک فتحِ مکہ عام فتح ہے، لیکن صلح حدیبیہ کی فتح عظیم تھی؛ حدیبیہ کے مقام پر ایک کنواں تھا جس کا لوگوں نے پانی نکال کر ختم کر دیا تھا۔ جب نبی ﷺ کو بتایا گیا تو آپ ﷺ کنویں کے کنارے پر آئے، پانی کا ڈول نکالا، پھر کچھ پانی لے کر کنویں میں کلی کر دی اور اللہ سے دعا کی تو پانی اتنا زیادہ ہو گیا کہ ہم نے سیر ہو کر پیا اور سواریوں کو پلایا اور ہماری تعداد چودہ سو تھی۔