السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: نزول سورة الفتح على رسول الله صلى الله عليه وسلم مرجعه من الحديبية باب: حدیبیہ سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ پر سورۃ الفتح کے نزول کا بیان۔
حدیث نمبر: 18814
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فِي قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ وَفِيهَا مُدْرَجًا: ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا، فَلَمَّا أَنْ كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْفَتْحِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: ١] فَكَانَتِ الْقَضِيَّةُ فِي سُورَةِ الْفَتْحِ وَمَا ذَكَرَ اللهُ مِنْ بَيْعَةِ رَسُولِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَلَمَّا أَمِنَ النَّاسُ وَتَفَاوَضُوا لَمْ يُكَلَّمْ أَحَدٌ بِالْإِسْلَامِ إِلَّا دَخَلَ فِيهِ، وَلَقَدْ دَخَلَ فِي تَيْنِكَ السَّنَتَيْنِ فِي الْإِسْلَامِ أَكْثَرُ مِمَّا كَانَ فِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ، وَكَانَ صُلْحُ الْحُدَيْبِيَةِ فَتْحًا عَظِيمًا.حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ، مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیبیہ (کے واقعہ) میں درج ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ واپس پلٹے، ابھی مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ سورہ الفتح مکمل نازل ہوگئی: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ [سورة الفتح: 1]، یہ فیصلہ سورہ الفتح میں ہے، جو صحابہ کا رسول اللہ ﷺ کی درخت کے نیچے بیعت کرنا ہے، جب تمام لوگ امن میں ہو گئے، کسی نے بھی اسلام کے متعلق بات نہ کی لیکن جو بھی اسلام کے متعلق سنتا وہ ضرور اسلام قبول کر لیتا، ان دو سال کے اندر اسلام میں زیادہ لوگ داخل ہوئے اور صلح حدیبیہ عظیم فتح تھی۔