السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: نصارى العرب تضعف عليهم الصدقة باب: عرب عیسائیوں پر صدقہ (ٹیکس) دگنا کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18794
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ السَّفَّاحِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ كُرْدُوسٍ، قَالَ: صَالَحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ⦗٣٦٣⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَنِي تَغْلِبَ عَلَى أَنْ يُضَاعِفَ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةَ، وَلَا يَمْنَعُوا أَحَدًا مِنْهُمْ أَنْ يُسْلِمَ، وَأَنْ لَا يَغْمِسُوا أَوْلَادَهُمْ.حافظ ثناء اللہ
داؤد بن کردوس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بنو تغلب سے اس شرط پر صلح کی کہ ان پر دوگنا صدقہ کیا جائے گا، وہ کسی کو اسلام قبول کرنے سے نہیں روکیں گے اور اپنی اولاد کو پانی میں غوطہ دے کر نہیں رنگیں گے۔