السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في هدايا المشركين للإمام باب: مشرکین کی طرف سے امام کے لیے تحائف کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً أَوْ هَدِيَّةً، فَقَالَ: " أَسْلَمْتَ؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا يُونُسُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، ثنا الْحَسَنُ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً، أَوْ قَالَ: نَاقَةً فَقَالَ لِي: " أَسْلَمْتَ؟ " قُلْتُ: لَا، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا وَقَالَ: " إِنَّا لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ ". قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا زَبْدُ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: رِفْدُهُمْ قَالَ الشَّيْخُ: يَحْتَمِلُ رَدُّهُ هَدِيَّتَهُ التَّحْرِيمَ، وَيَحْتَمِلُ التَّنْزِيهَ، وَقَدْ يَغِيظُهُ بِرَدِّ هَدِيَّتِهِ فَيَحْمِلُهُ ذَلِكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَالْأَخْبَارُ فِي قَبُولِ هَدَايَاهُمْ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اونٹنی تحفہ میں دی یا کوئی تحفہ دیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا مسلمان ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں مشرکین کے تحفے قبول نہیں کرتا۔“ (ب) سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کوئی ہدیہ یا اونٹنی دی، آپ ﷺ نے پوچھا کہ ”کیا مسلمان ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”ہم مشرکین کے تحفے قبول نہیں کرتے۔“ میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا: مشرکین کے تحفے کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ان کے عطیے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے ان کا تحفہ حرمت یا تنزیہ کی وجہ سے رد کر دیا، اس غصے کی وجہ سے کہ انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، حالانکہ مشرکین کے تحفے قبول کرنے کے بارے میں صحیح اور کثرت سے روایات موجود ہیں۔