السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الحربي إذا لجأ إلى الحرم وكذلك من وجب عليه حد باب: حربی کافر جب حرم میں پناہ لے لے، اور اسی طرح وہ شخص جس پر کوئی حد واجب ہو، اس کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " أَرْبَعَةٌ لَا أُؤَمِّنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلَا فِي حَرَمٍ: الْحُوَيْرِثُ بْنُ مَعْبَدٍ، وَمَقِيسٌ، وَهِلَالُ بْنُ خَطَلٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ. فَأَمَّا الْحُوَيْرِثُ فَقَتَلَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا مَقِيسٌ فَقَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لَحًّا، وَأَمَّا هِلَالُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا، وَأَفْلَتَتِ الْأُخْرَى وَأَسْلَمَتْ.عمر بن عثمان بن عبد الرحمن بن سعید مخزومی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”چار افراد کو حرم اور حلت میں بھی پناہ نہیں ہے: حویرث بن نقید، مقیس، ہلال بن خطل اور عبداللہ بن ابی سرح۔“ حویرث کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا، مقیس کو اس کے چچا کے بیٹے لخا نے قتل کر دیا، ہلال بن خطل کو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا، جبکہ عبداللہ بن ابی سرح کو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رضاعی بھائی ہونے کی وجہ سے پناہ دے دی۔ مقیس کی دو گانے والی لونڈیاں تھیں؛ ایک کو قتل کر دیا گیا، دوسری کو چھوڑ دیا گیا اور وہ مسلمان ہو گئی۔