السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الحربي إذا لجأ إلى الحرم وكذلك من وجب عليه حد باب: حربی کافر جب حرم میں پناہ لے لے، اور اسی طرح وہ شخص جس پر کوئی حد واجب ہو، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18781
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَقَالَ: " اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ: عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ خَطَلٍ، وَمَقِيسَ بْنَ صُبَابَةَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي سَرْحٍ.حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے سب لوگوں کو امن دے دیا، سوائے چار مردوں اور عورتوں کے، ان کو امن نہ دیا اور فرمایا: ”اگر تم ان کو کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکے پاؤ تب بھی قتل کر دو۔“ یہ چار مرد تھے: 1۔ عکرمہ بن ابی جہل، 2۔ عبداللہ بن خطل، 3۔ مقیس بن صبابہ، 4۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔