السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: السنة أن لا يقتل الرسل باب: یہ سنت ہے کہ قاصدوں (سفیروں) کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ بِكِتَابِهِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُمَا: " وَأَنْتُمَا تَقُولَانِ مِثْلَمَا يَقُولُ؟ " فَقَالَا: نَعَمْ، فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا ".حافظ ثناء اللہ
سلمہ بن نعیم بن مسعود اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، جب مسیلمہ کذاب کے قاصد آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں بھی اس کی مثل کہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم بھی وہی بات کہتے ہیں جو وہ کہتا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر قاصدوں کو قتل کیے جانے کا طریقہ ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا، لیکن قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔“