السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: السنة أن لا يقتل الرسل باب: یہ سنت ہے کہ قاصدوں (سفیروں) کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ حِنَّةٌ وَإِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِي حَنِيفَةَ فَإِذَا هُمْ يُؤْمِنُونَ بِمُسَيْلِمَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللهِ فَجِيءَ بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ غَيْرَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَالَ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ "، فَأَنْتَ الْيَوْمَ لَسْتَ بِرَسُولٍ، فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي السُّوقِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَتِيلًا بِالسُّوقِ.حارثہ بن مضرب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ فرماتے ہیں کہ میرے اور عرب کے درمیان کوئی دوستی نہ تھی۔ جب میرا گزر بنو حنیفہ کی مسجد کے قریب سے ہوا، وہ مسیلمہ پر ایمان لا چکے تھے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا اور توبہ طلب کی۔ صرف ابن نواحہ نے توبہ نہ کی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس سے کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے: ”قاصد کو قتل نہ کیا جائے“، وگرنہ تیری گردن اتار دیتا۔ لیکن آج آپ قاصد بن کر نہیں آئے تو انہوں نے قرظہ بن کعب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے بازار میں اس کی گردن اتار دی۔ پھر فرمایا: جو ابن نواحہ کو بازار میں مقتول دیکھنا چاہے دیکھ سکتا ہے۔