السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: لا يؤخذ منهم ذلك في السنة إلا مرة واحدة، إلا أن يقع الصلح على أكثر منها باب: ان سے سال میں یہ (ٹیکس) صرف ایک ہی مرتبہ لیا جائے گا، سوائے اس کے کہ صلح اس سے زیادہ پر طے پائے۔
حدیث نمبر: 18775
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ ⦗٣٥٦⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ إِلَيْهِ: وَمَنْ مَرَّ بِكَ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَخُذْ مِمَّا يُدِيرُونَ مِنَ التِّجَارَاتِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِينَارًا دِينَارًا، فَمَا نَقَصَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ حَتَّى يَبْلُغَ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ، فَإِنْ نَقَصَتْ ثُلُثَ دِينَارٍ فَدَعْهَا وَلَا تَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا، وَاكْتُبْ لَهُمْ بِمَا تَأْخُذُ مِنْهُمْ كِتَابًا إِلَى مِثْلِهِ مِنَ الْحَوْلِ.حافظ ثناء اللہ
رزیق بن حیان فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھے خط لکھا کہ ذمی تاجروں سے ان مالوں کا بیسواں حصہ وصول کیا کرو، جو کم ہو تو وہ بھی اسی حساب سے، یہاں تک کہ وہ دس دینار تک جا پہنچے۔ اگر تین تہائی دینار کم ہو جائے تو کچھ بھی وصول نہ کریں اور جو وصول کرو اس کو سال کے لیے تحریر کر لیا کرو۔