السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: لا يؤخذ منهم ذلك في السنة إلا مرة واحدة، إلا أن يقع الصلح على أكثر منها باب: ان سے سال میں یہ (ٹیکس) صرف ایک ہی مرتبہ لیا جائے گا، سوائے اس کے کہ صلح اس سے زیادہ پر طے پائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ أُعَشِّرُ بَنِي تَغْلِبَ كُلَّمَا أَقْبَلُوا وَأَدْبَرُوا، فَانْطَلَقَ شَيْخٌ مِنْهُمْ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ زِيَادًا يُعَشِّرُنَا كُلَّمَا أَقْبَلْنَا أَوْ أَدْبَرْنَا، فَقَالَ: تُكْفَى ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الشَّيْخُ بَعْدَ ذَلِكَ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي جَمَاعَةٍ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنَا الشَّيْخُ النَّصْرَانِيُّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَنَا الشَّيْخُ الْحَنِيفُ قَدْ كُفِيتَ. قَالَ: وَكَتَبَ إِلِيَّ أَنْ لَا تُعَشِّرَهُمْ فِي السَّنَةِ إِلَّا مَرَّةً.زیاد بن حدیر فرماتے ہیں: میں بنو تغلب سے عشر وصول کرتا تھا جب وہ آتے اور جانے لگتے تھے۔ ان کا ایک بوڑھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اس نے کہا کہ زیاد ہم سے دو مرتبہ عشر وصول کرتا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ کفایت کر جائے گا۔ دوبارہ پھر بوڑھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک جماعت میں تھے، اس نے کہا: اے امیر المومنین! میں ایک عیسائی شیخ ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور میں شیخ حنیف (یعنی صرف ایک اللہ کی طرف یکسو ہو جانے والا) ہوں۔ تجھے کفایت کر جائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر مجھے خط لکھا کہ ان سے صرف ایک مرتبہ دسواں حصہ وصول کیا کرو۔