السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما يؤخذ من الذمي إذا اتجر في غير بلده، والحربي إذا دخل بلاد الإسلام بأمان باب: ذمی جب اپنے شہر کے علاوہ کہیں اور تجارت کرے، اور حربی جب امان لے کر بلادِ اسلام میں داخل ہو، تو ان سے کیا وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مُغَلِّسٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ يَدْخُلُونَ أَرْضَنَا أَرْضَ الْإِسْلَامِ فَيُقِيمُونَ قَالَ: فَكَتَبَ ⦗٣٥٥⦘ إِلِيَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنْ أَقَامُوا سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَخُذْ مِنْهُمُ الْعُشْرَ، وَإِنْ أَقَامُوا سَنَةً فَخُذْ مِنْهُمْ نِصْفَ الْعُشْرِ.حافظ ثناء اللہ
زیاد بن حدیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ حربی کافر مسلمانوں کے علاقے میں آ کر قیام کرتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ چھ ماہ قیام کریں تو ان سے دسواں حصہ وصول کرو، اگر وہ سال بھر قیام کریں تو بیسواں حصہ وصول کرو۔