السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما يؤخذ من الذمي إذا اتجر في غير بلده، والحربي إذا دخل بلاد الإسلام بأمان باب: ذمی جب اپنے شہر کے علاوہ کہیں اور تجارت کرے، اور حربی جب امان لے کر بلادِ اسلام میں داخل ہو، تو ان سے کیا وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18770
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا قَيْسٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: كَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ تُجَّارَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا دَخَلُوا دَارَ الْحَرْبِ أَخَذُوا مِنْهُمُ الْعُشْرَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: خُذْ مِنْهُمْ إِذَا دَخَلُوا إِلَيْنَا مِثْلَ ذَلِكَ الْعُشْرِ، وَخُذُوا مِنْ تُجَّارِ أَهْلِ الذِّمَّةِ نِصْفَ الْعُشْرِ، وَمِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ مِائَتَيْنِ خَمْسَةً، وَمَا زَادَ فَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مسلمان تاجر جب دار الحرب میں جاتے ہیں تو ان سے عشر وصول کیا جاتا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جب ان کے لوگ آئیں تو تم ان سے عشر وصول کرو اور ذمی تاجروں سے بیسواں حصہ وصول کرو اور مسلمانوں سے بیسواں؛ درہم پر پانچ درہم وصول کیے جائیں اور جتنا زیادہ ہو ہر چالیس درہم پر ایک درہم وصول کریں۔