السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما يؤخذ من الذمي إذا اتجر في غير بلده، والحربي إذا دخل بلاد الإسلام بأمان باب: ذمی جب اپنے شہر کے علاوہ کہیں اور تجارت کرے، اور حربی جب امان لے کر بلادِ اسلام میں داخل ہو، تو ان سے کیا وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18772
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: مَا كُنَّا نَعْشُرُ مُسْلِمًا وَلَا مُعَاهَدًا. قَالَ: قُلْتُ: فَمَنْ كُنْتُمْ تَعْشُرُونَ؟ قَالَ: تُجَّارَ أَهْلِ الْحَرْبِ كَمَا يَعْشُرُونَنَا إِذَا أَتَيْنَاهُمْ.حافظ ثناء اللہ
زیاد بن حدیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان اور معاہد سے دسواں حصہ وصول نہ کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: تم کن سے عشر وصول کرتے تھے؟ کہتے ہیں کہ حربی تاجروں سے دسواں حصہ وصول کرتے تھے؛ کیونکہ جب ہم ان کے پاس جاتے تھے تو وہ بھی ہم سے دسواں حصہ وصول کرتے تھے۔