السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما يؤخذ من الذمي إذا اتجر في غير بلده، والحربي إذا دخل بلاد الإسلام بأمان باب: ذمی جب اپنے شہر کے علاوہ کہیں اور تجارت کرے، اور حربی جب امان لے کر بلادِ اسلام میں داخل ہو، تو ان سے کیا وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18769
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنْتُ أُعَاشِرُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ زَمَانَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ يَأْخُذُ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ أَنْصَافَ عُشُورِ أَمْوَالِهِمْ فِيمَا تَجَرُوا فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عقبہ کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں عشر وصول کیا کرتا تھا، وہ ذمی لوگوں کے تجارت کے مال سے بیسواں حصہ وصول کرتے تھے۔