السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما يؤخذ من الذمي إذا اتجر في غير بلده، والحربي إذا دخل بلاد الإسلام بأمان باب: ذمی جب اپنے شہر کے علاوہ کہیں اور تجارت کرے، اور حربی جب امان لے کر بلادِ اسلام میں داخل ہو، تو ان سے کیا وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18768
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ: عَلَى أِيِّ وَجْهٍ أَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ النَّبَطِ الْعُشْرَ؟ فَقَالَ: كَانَ ذَلِكَ يُؤْخَذُ مِنْهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَلْزَمَهُمْ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبط کے علاقے سے دسواں حصہ کیسے وصول کرتے تھے؟ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ان سے وصول کیا جاتا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کو مقرر فرما دیا۔