السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما يؤخذ من الذمي إذا اتجر في غير بلده، والحربي إذا دخل بلاد الإسلام بأمان باب: ذمی جب اپنے شہر کے علاوہ کہیں اور تجارت کرے، اور حربی جب امان لے کر بلادِ اسلام میں داخل ہو، تو ان سے کیا وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18767
قَالَ: وأنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ عَامِلًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَلَى سُوقِ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَانَ يَأْخُذُ مِنَ النَّبَطِ الْعُشْرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ کے بازار پر عامل تھا، وہ نبط کے علاقے کے لوگوں سے دسواں حصہ وصول کرتے تھے۔