حدیث نمبر: 18764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلِيَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى لَوْ أَنِّي أَمَرْتُكَ أَنْ تَعَضَّ عَلَى حَجَرِ كَذَا وَكَذَا ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي لَفَعَلْتَ، اخْتَرْتُ لَكَ خَيْرَ عَمَلٍ فَكَرِهْتَهُ، إِنِّي أَكْتُبُ لَكَ سُنَّةَ عُمَرَ. قُلْتُ: فَاكْتُبْ لِي سُنَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَ: فَكَتَبَ: مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَمَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَمِمَّنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ دِرْهَمٌ. قَالَ: قُلْتُ: مَنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ؟ قَالَ: الرُّومُ كَانُوا يَقْدَمُونَ الشَّامَ.
حافظ ثناء اللہ

انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام بھیجا، میں نے دیر کر دی، دوسرے پیغام پر میں آیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے: اگر میں تجھے اپنی رضا مندی کے لیے یہ کہتا کہ اس پتھر کو منتقل کر دو تو آپ ایسا کر دیتے۔ لیکن میں نے آپ کے لیے بہتر کام کا انتخاب کیا جس کو آپ نے ناپسند کیا۔ کہتے ہیں: میں تجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ تحریر کر دیتا ہوں، میں نے کہا: تحریر کر دیں تو انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں سے چالیس درہموں سے ایک درہم وصول کرنا ہے۔ میں نے پوچھا: غیر ذمی کون سے لوگ ہیں؟ فرمایا: جو رومی شام سے تجارت کی غرض سے آتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18764
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»