السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما يؤخذ من الذمي إذا اتجر في غير بلده، والحربي إذا دخل بلاد الإسلام بأمان باب: ذمی جب اپنے شہر کے علاوہ کہیں اور تجارت کرے، اور حربی جب امان لے کر بلادِ اسلام میں داخل ہو، تو ان سے کیا وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْمُقْرِيُّ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ وَكَانَ صَيْرَفِيًّا بِالْكُوفَةِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: جَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَلَى صَدَقَةِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. فَقُلْتُ: لَا أَعْمَلُ ذَلِكَ حَتَّى تَكْتُبَ لِي عَهْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الَّذِي عَهِدَ إِلَيْكَ، فَكَتَبَ لِي أَنْ خُذْ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ رُبْعَ الْعُشْرِ، وَمِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا ⦗٣٥٤⦘ لِلتِّجَارَةِ نِصْفَ الْعُشْرِ، وَمِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الْحَرْبِ الْعُشْرَ.حافظ ثناء اللہ
انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بصرہ سے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اس کام پر میں آپ کو بھیجتا ہوں جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے مقرر کیا ہے۔ میں نے کہا: میں اس وقت تک آپ کا کام نہیں کروں گا جب تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عہد مجھے تحریر کر کے نہ دیں گے، تو انہوں نے مجھے تحریر کر کے دیا کہ مسلمانوں سے چالیسواں حصہ، اور ذمی لوگوں کا مال جب تجارت کی غرض سے مختلف شہروں میں جائیں تو بیسواں حصہ اور حربی کافر کے مال سے دسواں حصہ وصول کرنا ہے۔