السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما يؤخذ من الذمي إذا اتجر في غير بلده، والحربي إذا دخل بلاد الإسلام بأمان باب: ذمی جب اپنے شہر کے علاوہ کہیں اور تجارت کرے، اور حربی جب امان لے کر بلادِ اسلام میں داخل ہو، تو ان سے کیا وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18763
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: بَعَثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْعُشُورِ فَقُلْتُ: تَبْعَثُنِي عَلَى الْعُشُورِ مِنْ بَيْنِ غِلْمَتِكَ؟ فَقَالَ: أَلَا تَرْضَى أَنْ أَجْعَلَكَ عَلَى مَا جَعَلَنِي عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رُبْعَ الْعُشْرِ، وَمِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ نِصْفَ الْعُشْرِ، وَمِمَّنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ الْعُشْرَ.حافظ ثناء اللہ
انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے مالِ تجارت سے دسواں حصہ لینے کے لیے بھیجا۔ انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مالِ تجارت سے دسواں حصہ وصول کرنا یہ آپ کا کام ہے، آپ نے مجھے بھیج دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا آپ راضی نہیں جس کام پر مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقرر کیا، میں آپ کو بھیج رہا ہوں؟ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ مسلمانوں سے چوتھائی عشر اور ذمی لوگوں سے بیسواں حصہ اور جو ذمی نہ ہو اس سے دسواں حصہ لو۔