السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الأذان والإقامة للجمع بين الصلاتين باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ بِعَرَفَةَ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَإِقَامَتَيْنِ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ أَسْنَدَهُ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ وَوَافَقَ حَاتِمًا عَلَى إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ لِي أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ: أَخْطَأَ حَاتِمٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرٍ كَمَا رَوَاهُ حَاتِمٌ.(الف) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مقامِ عرفہ پر ظہر اور عصر کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھی اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی، اور مغرب اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھی اور ان کے درمیان کوئی (کوئی) نماز نہیں پڑھی۔ (ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث حاتم بن اسماعیل نے بیان کی ہے اور امام حاتم نے اس کی موافقت کی ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ پڑھی۔ (ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے کہ حاتم نے اس لمبی حدیث میں غلطی کی ہے۔ (د) شیخ فرماتے ہیں کہ حاتم کی روایت کی طرح حفص بن غیاث عن جعفر والی روایت بھی ہے۔