حدیث نمبر: 1861
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ يُؤَذِّنُ عَلَى أَطْوَلِ مَنَارَةٍ بِالْكُوفَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى وَأَنَا أَطُوفُ مَعَهُ يَعْنِي حَوْلَ الْبَيْتِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ فِيهِ يَقُولُ: " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ

شعبہ فرماتے ہیں اور وہ کوفہ کے لمبے مینار پر اذان دیتے تھے: مجھ کو ابو یحییٰ نے بیان کیا اور میں ان کے ساتھ چکر لگا رہا تھا (یعنی بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا) انہوں نے کہا میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا میں نے آپ ﷺ کے منہ سے سنا ہے کہ ”مؤذن کو اس کی آواز کی لمبائی کی مقدار معاف کر دیا جاتا ہے اور ہر تر اور خشک چیز اس کے لیے گواہی دیتی ہے اور نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور ان (نمازوں) کے درمیان (کے گناہوں کے لیے) کفارہ ہو جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1861
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه أبو داؤد 515»