السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: تشييع الغازي وتوديعه باب: غازی (مجاہد) کو رخصت کرنے اور الوداع کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18579
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ ⦗٢٩٢⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو الْفَيْضِ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جَابِرٍ الرُّعَيْنِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَيَّعَ جَيْشًا فَمَشَى مَعَهُمْ فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اغْبَرَّتْ أَقْدَامُنَا فِي سَبِيلِ اللهِ ". فَقِيلَ لَهُ: وَكَيْفَ اغْبَرَّتْ وَإِنَّمَا شَيَّعْنَاهُمْ؟ فَقَالَ: " إِنَّا جَهَّزْنَاهُمْ وَشَيَّعْنَاهُمْ وَدَعَوْنَا لَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جابر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ لشکر کو الوداع کرتے ہوئے ان کے ساتھ چلتے اور فرماتے کہ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمارے پاؤں کو اپنے راستے میں خاک آلود کر دیا۔ ان سے کہا گیا کہ کیسے پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہوئے حالانکہ ہم نے انہیں الوداع کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے انہیں سازوسامان مہیا کیا، الوداع کہا اور ان کے لیے دعا کی۔