حدیث نمبر: 18577
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْغَزْوِ فَشَيَّعَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا أَرَادَ فِرَاقَنَا قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ مَعِي مَا أُعْطِيكُمَاهُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ إِذَا اسْتُودِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ " وَأَنَا أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكُمَا وَأَمَانَاتِكُمَا وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمَا.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب میں جہاد کے لیے نکلا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں الوداع کہا، جب واپس جانے لگے تو فرمایا: میرے پاس کچھ نہیں جو میں تمہیں دے سکوں، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اللہ رب العزت اس چیز کی حفاظت فرماتے ہیں، جو اس کی حفاظت میں دے دی جائے“، میں تمہارے دین، تمہاری امانتیں اور تمہارے اعمال کے خاتموں کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 18578
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ أُشَيِّعَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَأُكْنِفَهُ عَلَى رَحْلِهِ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سہل بن معاذ بن انس اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، جو رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں مجاہدین کے ساتھ رہ کر ان کے قافلے کا صبح یا شام کے وقت پہرہ دوں، یہ مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔“
حدیث نمبر: 18579
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ ⦗٢٩٢⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو الْفَيْضِ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جَابِرٍ الرُّعَيْنِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَيَّعَ جَيْشًا فَمَشَى مَعَهُمْ فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اغْبَرَّتْ أَقْدَامُنَا فِي سَبِيلِ اللهِ ". فَقِيلَ لَهُ: وَكَيْفَ اغْبَرَّتْ وَإِنَّمَا شَيَّعْنَاهُمْ؟ فَقَالَ: " إِنَّا جَهَّزْنَاهُمْ وَشَيَّعْنَاهُمْ وَدَعَوْنَا لَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جابر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ لشکر کو الوداع کرتے ہوئے ان کے ساتھ چلتے اور فرماتے کہ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمارے پاؤں کو اپنے راستے میں خاک آلود کر دیا۔ ان سے کہا گیا کہ کیسے پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہوئے حالانکہ ہم نے انہیں الوداع کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے انہیں سازوسامان مہیا کیا، الوداع کہا اور ان کے لیے دعا کی۔