السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في حرمة نساء المجاهدين باب: مجاہدین کی عورتوں کی حرمت و تکریم کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18580
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ قَعْنَبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا فِي أَهْلِهِ إِلَّا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقِيلَ: هَذَا خَلَفُكَ فِي أَهْلِكَ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ ". فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا ظَنُّكُمْ؟ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گھروں میں مقیم رہنے والے لوگوں پر مجاہدین کی بیویوں کی حرمت (احترام) ان کی اپنی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے۔ جو لوگ گھروں میں موجود ہیں، ان میں سے اگر کوئی کسی مجاہد کے اہل و عیال کے معاملے میں خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور (مجاہد سے) کہا جائے گا: اس نے تیرے اہل خانہ میں خیانت کی تھی، لہٰذا اس کی نیکیوں سے جتنا چاہو لے لو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے؟“