السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فضل الإنفاق في سبيل الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18566
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَاضِلَةً فَسَبْعَمِائَةٍ، وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ، أَوْ قَالَ: عَلَى أَهْلِهِ، أَوْ عَادَ مَرِيضًا، أَوْ أَمَاطَ أَذًى فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا، وَمَنِ ابْتَلَاهُ اللهُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ فَلَهُ حِطَّةٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس نے اللہ کے راستے میں زائد مال خرچ کیا تو اسے سات سو گنا تک اجر دیا جائے گا اور جس نے اپنے اوپر یا اپنے اہل پر خرچ یا کسی مریض کی تیمارداری کی یا کسی تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دیا تو اس کی نیکی کو دس گنا تک بڑھا دیا جائے گا اور روزہ ڈھال ہے جب تک اسے توڑا نہ جائے اور جس شخص کو اللہ جسمانی بیماری میں مبتلا کرے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“