حدیث نمبر: 18563
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّد بْنُ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللهِ هَذَا خَيْرٌ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصِّيَامِ بَابِ الرَّيَّانِ ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا عَلَى مَنْ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مال میں سے دو حصے اللہ کے راستے میں خرچ کیے، اسے جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا: اے اللہ کے بندے! یہ بہتر ہے، جبکہ جنت کے (آٹھ) دروازے ہیں۔ جو شخص نماز پڑھنے والا ہے، اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ جو شخص صدقہ خیرات کرتا رہا، تو اسے صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ جو شخص روزے رکھتا رہا، اسے «الرَّيَّانُ» ”ریان“ کے دروازے سے بلایا جائے گا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: گو ہر دروازے سے بلائے جانے کی ضرورت نہیں، تاہم کیا کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ ﷺ نے اس بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان میں سے ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 18564
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُودُ جَمَلًا لَهُ، أَوْ يَسُوقُهُ فِي عُنُقِهِ قِرْبَةٌ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ مَا لَكَ؟ قَالَ: لِي عَمَلِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ مَا لَكَ؟ قَالَ: لِي عَمَلِي، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: قُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثُنِي شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ "، يَعْنِي مِنَ الْوَلَدِ، " لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ "..
حافظ ثناء اللہ
صعصعہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جس وقت وہ اپنے اونٹ کو ہانک رہے تھے اور ان کے پاس مشکیزہ تھا۔ میں نے کہا: اے ابو ذر! آپ کا مال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میرا عمل۔ میں نے پوچھا: اے ابو ذر! کہنے لگے: میرا عمل، میرا عمل۔ کہتے ہیں: میں نے تیسری مرتبہ پوچھا کہ آپ کا مال کیا ہے؟ کہنے لگے: میرا عمل۔ میں نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث سنائیں۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے فوت ہوجائیں تو اللہ والدین کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کریں گے اور جس مسلمان نے اپنے مال کے دو حصے اللہ کے راستے میں خرچ کیے تو جنت کے دربان اس کی جانب سبقت کریں گے۔“
حدیث نمبر: 18565
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، زَادَ: " إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا قِبَلَهُ ". قُلْتُ: كَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: " إِنْ كَانَ رِجَالًا فَرَجُلَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ غَنَمًا فَشَاتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنت کے تمام دربان اس کو اپنی جانب بلانے میں سبقت کریں گے۔ میں نے کہا: وہ کیسے؟ راوی کہتے ہیں: ”اگر سواریاں ہوں تو دو سواریاں دے، اگر اونٹ ہوں تو دو اونٹ دے، اگر بکریاں ہوں تو دو بکریاں دے۔“
حدیث نمبر: 18566
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَاضِلَةً فَسَبْعَمِائَةٍ، وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ، أَوْ قَالَ: عَلَى أَهْلِهِ، أَوْ عَادَ مَرِيضًا، أَوْ أَمَاطَ أَذًى فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا، وَمَنِ ابْتَلَاهُ اللهُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ فَلَهُ حِطَّةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس نے اللہ کے راستے میں زائد مال خرچ کیا تو اسے سات سو گنا تک اجر دیا جائے گا اور جس نے اپنے اوپر یا اپنے اہل پر خرچ یا کسی مریض کی تیمارداری کی یا کسی تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دیا تو اس کی نیکی کو دس گنا تک بڑھا دیا جائے گا اور روزہ ڈھال ہے جب تک اسے توڑا نہ جائے اور جس شخص کو اللہ جسمانی بیماری میں مبتلا کرے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“
حدیث نمبر: 18567
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا بَشَّارُ بْنُ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ. قَالَ يَزِيدُ: وَأَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَعِنْدَهُ امْرَأَتُهُ تَحِيفُهُ، وَوَجْهُهُ مِمَّا يَلِي الْحَائِطَ، فَقُلْنَا: كَيْفَ بَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ؟ فَقَالَتْ: بَاتَ بِأَجْرٍ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا بِتُّ بِأَجْرٍ، فَسَاءَنَا ذَلِكَ وَسَكَتْنَا، فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونَ عَمَّا قُلْتُ؟ فَقُلْنَا: مَا سَرَّنَا ذَلِكَ فَنَسْأَلَكَ عَنْهُ. فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَسَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ، وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ، أَوْ أَمَاطَ أَذًى عَنِ الطَّرِيقِ، أَوْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا، وَمَنِ ابْتَلَاهُ اللهُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ فَهُوَ لَهُ حِطَّةٌ "..
حافظ ثناء اللہ
ولید بن عبدالرحمن، ریاض بن غطیف سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس مرض الموت میں حاضر ہوئے اور ان کی بیوی ان کے پاس تھیں، ان کا چہرہ دیوار کی جانب تھا۔ ہم نے پوچھا: ”ابو عبیدہ! رات کیسے گزاری؟“ تو بیوی نے کہا: ”رات ثواب کے حصول میں گزاری۔“ تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہماری جانب مڑ کے دیکھا اور فرمایا: ”میں نے رات اجر میں نہیں گزاری۔“ ہمیں برا لگا تو ان کی بیوی نے ہمیں خاموش کروا دیا، پھر وہ کہنے لگے: ”تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں ہو جو میں نے کہا؟“ ہم نے کہا: ”ہمیں اس سے خوشی نہیں ہوئی کہ ہم آپ سے اس کے بارے میں سوال کریں۔“ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے راستہ میں زائد مال خرچ کیا اسے سات سو گنا تک اجر دیا جائے گا اور جس نے اپنے اور گھر والوں پر خرچ کیا یا جس نے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹایا یا کوئی صدقہ کیا تو اس کی نیکی کا دس گنا اجر دیا جائے گا اور روزے کو مکمل کرنے کی صورت میں یہ ڈھال کا کام دے گا اور جسے اللہ رب العزت نے کسی جسمانی بیماری میں مبتلا کر دیا تو یہ بیماری اس کے لیے گناہوں کی معافی کا سبب بن جائے گی۔“
حدیث نمبر: 18568
وأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، أنبأ مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَجُلٌ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ. وَرَوَاهُ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّ غُضَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: الْوَصَبُ يُكَفَّرُ بِهِ مِنَ الْخَطَايَا. قَالَ الْبُخَارِيُّ: الصَّحِيحُ غُضَيْفُ بْنُ الْحَارِثِ الشَّامِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیماری گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 18569
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فَقَالَ: هِيَ لِي يَا رَسُولَ اللهِ، هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُمِائَةٍ كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص لگام والی اونٹنی لا کر کہنے لگا: ”یہ اللہ کے لیے ہے۔“ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن تجھے اس کے بدلے سات سو اونٹنیاں ملیں گی، سب لگام والی ہوں گی۔“
حدیث نمبر: 18570
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَاهُ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کو ساز و سامان دیا گویا اس نے جہاد کیا اور جس نے کسی مجاہد کے اہل و عیال کی کفالت کی گویا وہ جہاد میں شریک ہوا۔“
حدیث نمبر: 18571
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَا: أنبأ اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ أَظَلَّهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا حَتَّى يَسْتَقِلَّ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَرْجِعَ، وَمَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللهِ بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جس نے غزوہ کرنے والے کو سایہ مہیا کیا تو کل قیامت کے دن اللہ اس کے لیے سائے کا بندوبست فرمائیں گے اور جس شخص نے غزوہ کرنے والے کو کم ساز و سامان بھی مہیا کیا تو اسے مجاہد کے برابر ثواب ملے گا، یہاں تک کہ وہ شہید ہو جائے یا واپس پلٹ آئے اور جس شخص نے اللہ کے ذکر کی غرض سے مسجد بنوائی اللہ جنت میں اس کا گھر بنا دیں گے۔“
حدیث نمبر: 18572
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ الشَّاذْيَاخِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، وَزَادُوا قَالَ: وَقَالَ الْوَلِيدُ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ: قَدْ بَلَغَنِي هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَلِزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَكِلَاهُمَا قَدْ قَالَ: بَلَغَنِي هَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
خالی۔
حدیث نمبر: 18573
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَرَّاقُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيرَةٌ، فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ أَوِ الثَّلَاثَةَ، فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلٍ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ ". قَالَ: فَضَمَمْتُ إِلِيَّ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً مَا لِي عُقْبَةٌ إِلَّا كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے جب جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا: ”اے مہاجرین و انصار! تمہارے کچھ بھائی ایسے ہیں جن کے پاس مال و سواریاں موجود نہیں، تو تم میں سے ہر ایک دو یا تین آدمیوں کو اپنے ساتھ ملا لے۔“ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ویسے ہی باری مقرر کی جیسے ان کے لیے تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو ملایا تو میری باری بھی ان کی طرح ہی تھی۔