السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بيان النية التي يقاتل عليها ليكون في سبيل الله عز وجل باب: اس نیت کا بیان جس کے تحت جنگ کرنے سے وہ اللہ عزوجل کی راہ میں شمار ہو۔
حدیث نمبر: 18550
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ المُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءَ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ قَالَ: وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ، قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَمَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ يَكُونُ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّتَيْ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا يَبْتَغِي الدُّنْيَا، أَوْ قَالَ التِّجَارَةَ، فَلَا تَقُولُوا ذَلِكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ مَاتَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ".حافظ ثناء اللہ
ابوعجفاء فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ تم اس کے بارے میں جو غزوے میں قتل کیا جائے، کہتے ہو کہ فلاں شہید کیا گیا یا فلاں شہادت کی موت مرا، شاید کہ اس نے اپنی سواری کو سونے یا چاندی سے لاد رکھا ہو اور وہ دنیا یا تجارت کا قصد کیے ہوئے ہو، تم ان کے بارے میں یہ نہ کہو بلکہ اس طرح کہو جیسے نبی ﷺ نے فرمایا ہے: ”جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیا گیا یا فوت ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔“