کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس نیت کا بیان جس کے تحت جنگ کرنے سے وہ اللہ عزوجل کی راہ میں شمار ہو۔
حدیث نمبر: 18544
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُعْرَفَ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ فَقَالَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ هُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے عرض کی کہ ایک شخص مالِ غنیمت کے لیے لڑتا ہے، دوسرا شہرت کے لیے اور تیسرا ریاکاری کے لیے لڑتا ہے، تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ کے کلمے کو سربلندی کے لیے نکلے، وہ اللہ کے راستے میں ہے۔“
حدیث نمبر: 18545
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِئَاءً، فَأِيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک شخص بہادری کے لیے، دوسرا عصبیت کے لیے اور تیسرا ریا کاری کے لیے جہاد کرتا ہے، تو ان میں سے کون اللہ کے راستے میں ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو صرف اس لیے لڑائی کرے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے، وہی اللہ کے راستے میں ہے۔“
حدیث نمبر: 18546
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔۔۔ باقی اسی طرح حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 18547
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، ثنا بَقِيَّةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ ⦗٢٨٣⦘ بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْو، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَبَاشَرَ الشَّرِيكَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلَّهُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا، وَرِئَاءً، وَسُمْعَةً، وَعَصَى الْإِمَامَ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَنْ يَرْجِعَ بِكَفَافٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْحَضْرَمِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " وَعَصَى الْإِمَامَ وَلَمْ يُنْفِقِ الْكَرِيمَةَ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”غزوہ دو قسم کا ہے؛ وہ شخص جو اللہ کی رضا مندی کے لیے اور امیر کی اطاعت میں پسندیدہ چیز کو خرچ کرتا ہے اور اپنے ساتھی سے مل کر رہتا ہے اور فساد سے بچتا ہے، اس کے سونے اور بیدار رہنے میں اجر ہے، اور جس نے فخر، ریاکاری، شہرت، امام کی نافرمانی اور زمین میں فساد کرنے کی کوشش کی، وہ برابری کے ساتھ بھی نہ لوٹے گا۔“
(ب) ابوبحریہ عبداللہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔۔ جس کے آخر میں ہے کہ ”جس نے امام کی نافرمانی کی اور اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کی، وہ برابری کے ساتھ بھی نہ لوٹے گا۔“
(ب) ابوبحریہ عبداللہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔۔ جس کے آخر میں ہے کہ ”جس نے امام کی نافرمانی کی اور اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کی، وہ برابری کے ساتھ بھی نہ لوٹے گا۔“
حدیث نمبر: 18548
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاعِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ حَنَانَ بْنِ خَارِجَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْجِهَادِ وَالْغَزْوِ، فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا بَعَثَكَ اللهُ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا، يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو عَلَى أِيِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ بَعَثَكَ اللهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما! اگر تو نے صبر کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے جہاد کیا تو اللہ تجھے صبر اور ثواب پانے کی صورت میں ہی اٹھائے گا۔ اگر تو نے ریاکاری یا مال کی زیادتی کے لیے لڑائی کی تو اللہ تجھے ریاکار اور زیادہ مال طلب کرنے والوں میں اٹھائے گا۔“
حدیث نمبر: 18549
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْإِيَادِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ النَّصِيبِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ نَابِلٌ أَخُو أَهْلِ الشَّامِ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ أَتَى بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلَانٌ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ فَأَمَرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَتَى بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَقَرَأْتُ الْقُرْآنَ وَعَلَّمْتُهُ فِيكَ، قَالَ: كَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلَانٌ عَالِمٌ وَفُلَانٌ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ، فَأَمَرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ إِلَى النَّارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ فَأَتَى بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ فَقَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ شَيْءٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهِ إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهِ لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلَانٌ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ، فَأَمَرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مختلف لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ناتل شامی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے ایسی حدیث سنائیں جو رسول اللہ ﷺ سے سن رکھی ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں میں سے جس کے بارے میں سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ تین شخص ہیں: شہید، اس کو اللہ رب العزت کے پاس لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کروائیں گے تو وہ ان کو پہچان لے گا، اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ بندہ کہے گا: اے اللہ! میں نے تیرے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہادت حاصل کی، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تو نے جھوٹ بولا، تیرا تو ارادہ تھا کہ فلاں مجھے بہادر کہے، تجھے دنیا میں بہادر کہہ دیا گیا، پھر اللہ رب العزت فرشتوں کو حکم دیں گے اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا شخص عالمِ دین اور قاریِ قرآن ہو گا، اس کو اللہ کے سامنے لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کروائیں گے، وہ تمام نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تو جھوٹ بولتا ہے، تیرا ارادہ یہ تھا کہ تجھے عالمِ دین اور قاریِ قرآن کہا جائے، وہ تجھے دنیا کے اندر کہہ دیا گیا، پھر اس کے بارے میں بھی اللہ رب العزت حکم فرمائیں گے اور اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور تیسرا وہ شخص جس کو اللہ رب العزت اپنی نعمتوں کی پہچان کرائیں گے، وہ نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ تو وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی کہ جس میں تو خرچ کرنے کو پسند کرتا ہو مگر میں نے تیری رضا کے لیے وہاں خرچ نہ کیا ہو، تو اللہ رب العزت فرمائیں گے: تو نے جھوٹ بولا، تیرا تو صرف یہ ارادہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے، دنیا میں تجھے سخی کہہ دیا گیا، اللہ رب العزت اس کے بارے میں بھی حکم دیں گے، پھر اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 18550
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ المُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءَ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ قَالَ: وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ، قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَمَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ يَكُونُ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّتَيْ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا يَبْتَغِي الدُّنْيَا، أَوْ قَالَ التِّجَارَةَ، فَلَا تَقُولُوا ذَلِكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ مَاتَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعجفاء فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ تم اس کے بارے میں جو غزوے میں قتل کیا جائے، کہتے ہو کہ فلاں شہید کیا گیا یا فلاں شہادت کی موت مرا، شاید کہ اس نے اپنی سواری کو سونے یا چاندی سے لاد رکھا ہو اور وہ دنیا یا تجارت کا قصد کیے ہوئے ہو، تم ان کے بارے میں یہ نہ کہو بلکہ اس طرح کہو جیسے نبی ﷺ نے فرمایا ہے: ”جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیا گیا یا فوت ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔“
حدیث نمبر: 18551
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ هُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ ابْنِ مِكْرَزٍ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، وفِي رِوَايَةِ ابْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مِكْرَزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَجْرَ لَهُ "، فَسَأَلَهُ الثَّانِيَةَ وَالثَّالِثَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَجْرَ لَهُ " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ شَقِيقٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا أَشْبَهَهَا تَحْتَمِلُ أَنْ تَكُونَ فِيمَنْ لَا يَنْوِي بِغَزْوِهِ إِلَّا الدُّنْيَا، وَمَا يَرْجِعُ إِلَى أَسْبَابِهَا، فَأَمَّا مَنْ يَبْتَغِي الْأَجْرَ وَيَرْجُو أَنْ يُصِيبَ غَنِيمَةً فَقَدْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہے اور دنیا کا مال حاصل کرنا چاہتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا کوئی اجر نہیں ہے۔“ پھر اس شخص نے دوسری اور تیسری مرتبہ دوبارہ سوال کیا تو آپ ﷺ نے تب بھی فرمایا: ”اس کا کوئی اجر نہیں ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث اس بات کا احتمال رکھتی ہے کہ اس نے صرف دنیا کی نیت کی، لیکن جو ثواب کی نیت کرے اور مالِ غنیمت کے ملنے کی امید رکھے (اس پر کوئی گناہ نہیں)۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث اس بات کا احتمال رکھتی ہے کہ اس نے صرف دنیا کی نیت کی، لیکن جو ثواب کی نیت کرے اور مالِ غنیمت کے ملنے کی امید رکھے (اس پر کوئی گناہ نہیں)۔
حدیث نمبر: 18552
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ ضَمْرَةَ بْنَ حَبِيبٍ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ زُغْبٍ الْإِيَادِيِّ، قَالَ: نَزَلَ بِي عَبْدُ اللهِ بْنُ حَوَالَةَ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّهُ فَرَضَ لَهُ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَأَبَى إِلَّا مِائَةً، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَحَقٌّ مَا بَلَغَنَا أَنَّهُ فَرَضَ لَكَ فِي مِائَتَيْنِ، فَأَبَيْتَ إِلَّا مِائَةً؟ وَاللهِ مَا مَنَعَهُ وَهُوَ نَازِلٌ عَلَيَّ أَنْ يَقُولَ: لَا أُمَّ لَكَ أَوَلَا يَكْفِي ابْنَ حَوَالَةَ مِائَةٌ كُلَّ عَامٍ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا عَلَى أَقْدَامِنَا حَوْلَ الْمَدِينَةِ لِنَغْنَمَ، فَقَدِمْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِنَا مِنَ الْجَهْدِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلِيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَهُونُوا عَلَيْهِمْ وَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَكِنْ تَوَحَّدْ بِأَرْزَاقِهِمْ ". ثُمَّ قَالَ: لَيُفْتَحَنَّ لَكُمُ الشَّامُ ثُمَّ لَتُقْسَمَنَّ كُنُوزُ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَلَيَكُونَنَّ لِأَحَدِكُمْ مِنَ الْمَالِ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُعْطَى مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطُهَا ". ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ⦗٢٨٥⦘ فَقَالَ: " يَا ابْنَ حَوَالَةَ إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتِ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ فَقَدْ أَتَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَابِلُ وَالْأُمُورُ الْعِظَامُ وَالسَّاعَةُ أَقْرَبُ إِلَى النَّاسِ مِنْ يَدِي هَذِهِ مِنْ رَأْسِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن زغب ایادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور ہمیں خبر ملی کہ ان کے لیے دو سو میں زکاۃ کو فرض کیا گیا ہے، انہوں نے سو کا انکار کر دیا۔ میں نے ان سے کہا: ہمیں جو خبر ملی ہے اس کے مطابق حق یہی ہے کہ آپ کے لیے دو سو میں زکاۃ فرض ہے اور آپ نے سو کا انکار کیا۔ اللہ کی قسم! جو ہونے والا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ ان کا مجھ سے «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ» ”تیری ماں مرے“ کہنا مجھ پر گراں نہیں تھا۔ اہل حوالہ کے لیے ہر مال میں ایک سو ہیں۔ سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے ہمیں پیدل مدینہ کے ارد گرد روانہ کیا تاکہ ہم غنیمت حاصل کریں لیکن ہم نے غنیمت حاصل نہ کی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ہماری مشقت کو دیکھا تو فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! تو ان کو میرے سپرد نہ کر، میں ان سے کمزور ہوں، اور نہ ہی تو ان کو ان کے نفسوں کے سپرد کر دے کہ وہ اس سے عاجز آ جائیں، اور نہ ہی تو ان کو لوگوں کو سونپ دینا کہ وہ ان کی تذلیل کریں یا وہ ان کے اوپر دوسروں کو ترجیح دیں۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ملکِ شام فتح کیا جائے گا اور فارس و روم کے خزانے تمہارے درمیان تقسیم کیے جائیں گے اور تم میں سے کسی کو اتنا اتنا مال ملے گا کہ سو دینار دیے جانے کے باوجود وہ شخص ناراض ہوگا۔“ پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”اے ابن حوالہ! جب تو دیکھے کہ خلافت ارضِ مقدسہ میں قائم ہو گئی ہے تو زلزلے، مصائب اور بڑے بڑے امور واقع ہوں گے اور قیامت لوگوں کے قریب ہو گی، (اتنی قریب جتنا) میرے اس ہاتھ سے جو تیرے سر کے اوپر ہے۔“