حدیث نمبر: 18549
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْإِيَادِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ النَّصِيبِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ نَابِلٌ أَخُو أَهْلِ الشَّامِ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ أَتَى بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلَانٌ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ فَأَمَرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَتَى بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَقَرَأْتُ الْقُرْآنَ وَعَلَّمْتُهُ فِيكَ، قَالَ: كَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلَانٌ عَالِمٌ وَفُلَانٌ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ، فَأَمَرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ إِلَى النَّارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ فَأَتَى بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ فَقَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ شَيْءٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهِ إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهِ لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلَانٌ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ، فَأَمَرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مختلف لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ناتل شامی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے ایسی حدیث سنائیں جو رسول اللہ ﷺ سے سن رکھی ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں میں سے جس کے بارے میں سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ تین شخص ہیں: شہید، اس کو اللہ رب العزت کے پاس لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کروائیں گے تو وہ ان کو پہچان لے گا، اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ بندہ کہے گا: اے اللہ! میں نے تیرے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہادت حاصل کی، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تو نے جھوٹ بولا، تیرا تو ارادہ تھا کہ فلاں مجھے بہادر کہے، تجھے دنیا میں بہادر کہہ دیا گیا، پھر اللہ رب العزت فرشتوں کو حکم دیں گے اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا شخص عالمِ دین اور قاریِ قرآن ہو گا، اس کو اللہ کے سامنے لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کروائیں گے، وہ تمام نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تو جھوٹ بولتا ہے، تیرا ارادہ یہ تھا کہ تجھے عالمِ دین اور قاریِ قرآن کہا جائے، وہ تجھے دنیا کے اندر کہہ دیا گیا، پھر اس کے بارے میں بھی اللہ رب العزت حکم فرمائیں گے اور اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور تیسرا وہ شخص جس کو اللہ رب العزت اپنی نعمتوں کی پہچان کرائیں گے، وہ نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ تو وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی کہ جس میں تو خرچ کرنے کو پسند کرتا ہو مگر میں نے تیری رضا کے لیے وہاں خرچ نہ کیا ہو، تو اللہ رب العزت فرمائیں گے: تو نے جھوٹ بولا، تیرا تو صرف یہ ارادہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے، دنیا میں تجھے سخی کہہ دیا گیا، اللہ رب العزت اس کے بارے میں بھی حکم دیں گے، پھر اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18549
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٩٠٥»