حدیث نمبر: 18536
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتِيكٍ أَخِي بَنِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ ⦗٢٨٠⦘ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللهِ "، قَالَ: ثُمَّ ضَمَّ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ، " وَأَيْنَ الْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ، مَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِهِ فَمَاتَ، فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَإِنْ لَدَغَتْهُ دَابَّةٌ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَمَنْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ "، قَالَ: وَإِنَّهَا لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوَّلَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي بِحَتْفِ أَنْفِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، " فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَمَنْ قُتِلَ قَعْصًا فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْجَنَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ

بنو سلمہ کے محمد بن عبداللہ بن عتیک اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو جہاد فی سبیل اللہ کی نیت سے گھر سے نکلا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے اپنی تین انگلیاں ملائیں اور فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کہاں ہیں؟ جو شخص اللہ کے راستے میں اپنی سواری سے گر کر فوت ہو جائے تو اس کا معاملہ اللہ کے ذمے ہے اور اگر کسی چیز کے ڈسنے کی وجہ سے فوت ہو جائے تو اس کو مکمل اجر ملے گا اور جو انسان اپنی طبعی موت فوت ہو گیا۔“ راوی کہتے ہیں: یہ کلمہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پہلے کسی عرب سے نہ سنا تھا، یعنی جو اپنے بستر پر فوت ہو گیا: ”اس کا اجر بھی اللہ کے ذمے ہے اور جو انسان موقع پر ہی قتل کر دیا گیا اس نے جنت کو واجب کر لیا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18536