السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فضل من مات في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں وفات پانے والے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا عُتْبَةُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، يَرُدُّهُ إِلَى مَكْحُولٍ إِلَى ابْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: مَنِ انْتَدَبَ خَارِجًا فِي سَبِيلِ اللهِ ابْتِغَاءَ وَجْهِهِ، وَتَصْدِيقَ وَعْدِهِ، وَإِيمَانًا بِرِسَالِاتِهِ عَلَى اللهِ ضَامِنٌ، فَإِمَّا يَتَوَفَّاهُ اللهُ فِي الْجَيْشِ بِأِيِّ حَتْفٍ شَاءَ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، وَإِمَّا يَسِيحُ فِي ضَمَانِ اللهِ وَإِنْ طَالَتْ غَيْبَتُهُ، ثُمَّ يَرُدُّهُ إِلَى أَهْلِهِ سَالِمًا مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ ". قَالَ: " وَمَنْ فَصَلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ "، يَعْنِي " فَهُوَ شَهِيدٌ، " أَوْ وَقَصَهُ فَرَسُهُ، أَوْ بَعِيرُهُ، أَوْ لَدَغَتْهُ هَامَةٌ، أَوْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ بِأِيِّ حَتْفٍ شَاءَ اللهُ فَإِنَّهُ شَهِيدٌ وَلَهُ الْجَنَّةُ ".ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اللہ کی رضامندی کی تلاش، اس کے وعدے کی تصدیق اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی وجہ سے، تو اللہ رب العزت اس بندے کا ضامن ہے کہ اللہ اس کو لشکر میں جس طرح بھی موت دے، اس کو جنت میں داخل کرلے گا۔ وہ اللہ کی ضمانت میں ہی رہے گا، اگرچہ وہ زیادہ دیر غائب رہے۔ پھر اللہ رب العزت اس کو اس کے گھر صحیح سلامت اور اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔“ راوی کہتے ہیں: ”جو اللہ کے راستے میں فوت ہوجائے یا شہید ہوجائے یا اس کا گھوڑا یا اونٹ گرا دے یا کوئی زہریلی چیز ڈس لے یا اپنے بستر پر ہی فوت ہوجائے، یہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے۔“