السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فضل من مات في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں وفات پانے والے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَيْتِهَا يَوْمًا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: " عُرِضَ عَلَيَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ". قُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهَا ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: " أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ". فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَغَزَا بِهَا فِي الْبَحْرِ، فَلَمَّا رَجَعُوا قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ لِتَرْكَبَهَا، فَصَرَعَتْهَا فَدُقَّتْ عُنُقُهَا فَمَاتَتْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ.ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ ایک دن انس رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف فرما تھے تو بیدار ہونے کے بعد مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: آپ کو کس چیز نے مسکرا دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ سمندر پر سواری کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔“ میں نے کہا: دعا کریں اللہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ آپ ﷺ دعا کر کے دوبارہ لیٹ گئے۔ پھر بیدار ہونے کے بعد اسی طرح ہی فرمایا، میں نے دوبارہ دعا کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پہلے لوگوں میں سے ہے۔“ تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا اور انہیں سمندری سفر میں لے گئے۔ جب واپس آنے لگے تو خچر سے گرنے کی وجہ سے گردن ٹوٹ گئی، یہ ان کی ہلاکت کا سبب بنا۔