السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فضل من مات في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں وفات پانے والے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ،، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْحِيرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَالُوا: أنبأ ⦗٢٧٩⦘ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَت: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ "، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، يَشُكُّ أَيُّهُمَا. قَالَ: قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ "، كَمَا قَالَ فِي الْأُولَى، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ: " أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ". فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس کھانے کے لیے تشریف لائے اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ﷺ ان کے پاس آئے تو وہ کھانا کھلانے کے بعد سر سے جوئیں نکالنے بیٹھ گئیں۔ رسول اللہ ﷺ سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کو کس بات نے ہنسا دیا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے۔ وہ سمندر کے درمیان سواری کرتے ہیں، جیسے بادشاہ تختوں پر۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! دعا کر دیں کہ میں بھی ان میں سے ہو جاؤں۔“ آپ ﷺ نے دعا کر دی۔ پھر آپ ﷺ سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ وہ فرماتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے پہلی مرتبہ تھے۔“ انہوں نے دوبارہ رسول اللہ ﷺ سے دعا کی درخواست کر دی کہ انہیں ان میں شمار کیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے سمندر کا سفر کیا، جب وہ سمندر سے نکلیں تو چوپائے کی سواری سے گرنے کی وجہ سے وفات پا گئیں۔