السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: في فضل الجهاد في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَوِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ - يَعْنِي الْجَنَّةَ - هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ مَاتَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا تُنْبِئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟. قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَعَدَّهَا اللهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى "..حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور رسول پر ایمان رکھے، نماز ادا کرے، زکوۃ دے، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کردے۔ اس نے اللہ کے راستہ میں ہجرت کی یا اپنی جائے پیدائش پر ہی فوت ہوگیا۔“ انھوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم لوگوں کو خبر نہ دے دیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں اور ہر درجہ کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔ یہ اللہ نے مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں۔ جب بھی تم اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس طلب کیا کرو۔ یہ جنت کے درمیان یا اوپر ہے۔ اس سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔“