السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: في فضل الجهاد في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ". قَالَ: فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ ⦗٢٦٧⦘ فَقَالَ: أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ. فَفَعَلَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ". قَالَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو سعید! جو اللہ کے رب اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ راوی کہتے ہیں کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے تعجب کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! دوبارہ بیان فرمائیں، تو آپ ﷺ نے پھر وہی ارشاد فرمایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندے کے جنت میں سو درجے بلند کر دیے جاتے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیانی مسافت زمین و آسمان کے برابر ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“