السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بعث العيون والطلائع من المسلمين باب: مسلمانوں کی طرف سے جاسوس اور ہراول دستے بھیجنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ أَوْ أَبْلَيْتُ. فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَاكَ؟ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ رِيحٍ شَدِيدَةٍ وَقَرٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَكُونُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ " فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، ثُمَّ الثَّانِيَةَ مِثْلَهُ ثُمَّ قَالَ: " يَا حُذَيْفَةُ قُمْ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ "، فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ، فَقَالَ: " ائْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تُذْعِرْهُمْ عَلَيَّ ". قَالَ: فَمَضَيْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يُصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ، فَوَضَعْتُ سَهْمِي فِي كَبِدِ قَوْسِي وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُذْعِرْهُمْ عَلَيَّ "، وَلَوْ رَمَيْتُ لَأَصَبْتُهُ قَالَ: فَرَجَعْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَنِي الْبَرْدُ حِينَ فَرَغْتُ وَقُرِرْتُ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا، فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى الصُّبْحِ فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُمْ يَا نَوْمَانُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کے پاس تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ اگر میں رسول اللہ ﷺ کو پا لیتا تو میں آپ ﷺ کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنے آپ کو بوڑھا کر لیتا، تو حذیفہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو یہ کام کرے گا؟ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احزاب کی راتوں میں سے ایک رات کو سخت ہوا والی اور ٹھنڈی پایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شخص مجھے قوم کی خبر لا کر دے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہو گا“ تو ہم میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ اسی طرح فرمایا، پھر فرمایا: ”اے حذیفہ! ہمارے پاس قوم کی خبر لے کر آؤ“۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا، جب آپ ﷺ نے میرا نام لے کر مجھے کھڑا ہونے کو کہا تو فرمایا: ”قوم کی خبر لاؤ تو ان کو میرے بارے میں خبر نہ دینا“۔ کہتے ہیں: میں گیا گویا کہ میں سکون سے چل رہا تھا۔ جب میں ابوسفیان کے قریب آیا تو وہ اپنی کمر کو آگ سے تاپ رہا تھا، میں نے اپنا تیر کمان میں رکھا اور اسے تیر مارنے کا ارادہ کیا، پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آ گئی کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ان کو میرے خلاف نہ بھڑکانا“، اگر میں اس کو تیر مارتا تو ہلاک کر سکتا تھا۔ کہتے ہیں: میں واپس آیا کہ میں گرمی کے اندر ہی چل رہا تھا۔ جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا پھر مجھے ٹھنڈک محسوس ہوئی، جب میں اپنے کام سے فارغ ہو چکا تھا۔ میں نے آپ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے چادر کا زائد حصہ میرے اوپر ڈال دیا، پھر میں صبح تک سویا رہا۔ جب میں نے صبح کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے سونے والے! اٹھ جا“۔