حدیث نمبر: 18443
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ ⦗٢٥١⦘ لَهُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَذْكُرُ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَ عَشِيَّةً، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَارِسٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي انْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ حَتَّى طَلَعْتُ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ أَبِيهِمْ بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَشَائِهِمْ، فَاجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " تِلْكَ غَنِيمَةٌ لِلْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ ". ثُمَّ قَالَ: " مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟ " فَقَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ: " ارْكَبْ ". فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبِ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ وَلَا نُغَرَّنَّ مِنْ قِبَلِكَ اللَّيْلَةَ ". فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: " هَلْ حَسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ: مَا حَسَسْنَا. فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَ فَارِسُكُمْ ". قَالَ: فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشِّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا طَلَعْتُ عَلَى الشِّعْبَيْنِ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ؟ " قَالَ: لَا إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيَ حَاجَةٍ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَوْجَبْتَ فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بَعْدَهَا ".
حافظ ثناء اللہ

ابو کبشہ سلولی نے سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ حنین کے دن وہ نبی ﷺ کے ساتھ شام تک چلے۔ نماز کا وقت ہو گیا تو ایک سوار شخص آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ کے آگے فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا کہ اچانک بنو ہوازن نے اپنے والدین، چوپائے اور بکریوں کو حنین میں جمع کر رکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”«إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ یہ کل مسلمانوں کے لیے مالِ غنیمت ہو گا۔“ پھر فرمایا: ”آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا؟“ تو انس بن ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں پہرہ دوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوار ہو جا۔“ تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر نبی ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ اس سامنے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جائیں، (تاکہ) آپ کی جانب سے ہم پر آج رات کوئی حملہ نہ کر لے۔“ جب ہم نے صبح کی تو آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر پوچھا: ”کیا تم نے اپنے شاہسوار کو محسوس کیا ہے؟“ تو ایک شخص نے کہا: ہم نے محسوس نہیں کیا، تو نماز کی اقامت کہہ دی گئی۔ رسول اللہ ﷺ مڑ مڑ کر اس گھاٹی کی طرف دیکھتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے نماز مکمل کی اور فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، تمہارا شاہسوار آ گیا ہے۔“ تو ہم درختوں کے درمیان سے دیکھ رہے تھے کہ اچانک اس نے آ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑے ہو کر سلام کیا، اس نے کہا: میں آپ ﷺ کے حکم کے مطابق اس گھاٹی کی چوٹی پر پہنچا۔ جب میں نے صبح کی تو میں نے دونوں گھاٹیوں کے درمیان نظر دوڑائی، میں نے کسی کو نہ دیکھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو رات کو نیچے اترا تھا؟“ اس نے کہا: نماز اور قضائے حاجت کے علاوہ نہیں اترا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«أَوْجَبْتَ» ”تو نے (جنت کو) واجب کر لیا ہے“، تیرے اوپر کوئی حرج نہیں اگر اس کے بعد عمل نہ بھی کرے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18443
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»