السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بعث العيون والطلائع من المسلمين باب: مسلمانوں کی طرف سے جاسوس اور ہراول دستے بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18441
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَدَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ". قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ وَابْنُ عَمَّتِي. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خندق کے دن لوگوں کو آواز دی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے «لَبَّيْكَ» کہا۔ پھر دوسری مرتبہ آپ ﷺ نے لوگوں کو پکارا تو زبیر رضی اللہ عنہ نے «لَبَّيْكَ» کہا۔ پھر تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے آواز دی تو زبیر رضی اللہ عنہ نے «لَبَّيْكَ» کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک مخلص ساتھی ہوتا ہے اور میرا مخلص ساتھی زبیر (رضی اللہ عنہ) ہے۔“ (ب) ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں: ”میرا حواری زبیر (رضی اللہ عنہ) ہے اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔“