السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الأذان راكبا وجالسا باب: سوار ہو کر اور بیٹھ کر اذان دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1844
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ: وَتَقَدَّمَ رَجُلٌ فَصَلَّى بِنَا وَكَانَ أَعْرَجَ أُصِيبَ رِجْلُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى " وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: يُكْرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ قَاعِدًا إِلَّا مِنْ عُذْرٍ.حافظ ثناء اللہ
(الف) حسن بن محمد سے روایت ہے کہ میں ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی اور وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص آگے بڑھا اور ہمیں نماز پڑھائی اور وہ لنگڑا تھا، اس کا پاؤں اللہ کے راستے میں زخمی ہو گیا تھا۔
(ب) عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ ناپسند سمجھتے تھے کہ اذان بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر دے۔