السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يجوز للأسير أو من قدم ليقتل والرجل بين الصفين في ماله باب: قیدی یا جسے قتل کے لیے پیش کیا گیا ہو اور وہ شخص جو دو صفوں (لشکروں) کے درمیان کھڑا ہو، ان کے لیے اپنے مال میں کیا تصرف جائز ہے۔
وَبِإِسْنَادِهِ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَامَّةَ صَدَقَاتِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَصَدَّقَ بِهَا وَفَعَلَ أُمُورًا وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ يَوْمَ الْجَمَلِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُمَا قَالَا: إِذَا كَانَ الرَّجُلُ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ يُقَاتِلُ فَمَا صَنَعَ فَهُوَ جَائِزٌ. وَرُوِي عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ: عَطِيَّةُ الْحُبْلَى جَائِزَةٌ حَتَّى تَجْلِسَ بَيْنَ الْقَوَابِلِ. وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَابْنُ الْمُسَيِّبِ: عَطِيَّةُ الْحَامِلِ جَائِزَةٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَقُولُ. قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الْوَصَايَا بِطُولِهِ.ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے اکثر صدقات (اوقاف) جنگِ جمل کے دن اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر کھڑے ہو کر صدقہ کیے اور (اسی حالت میں) کئی کام سر انجام دیے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ سے مروی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر قتال کر رہا ہو تو وہ جو بھی (تصرف) کرے جائز ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حاملہ کا عطیہ جائز ہے یہاں تک کہ وہ (ولادت کے لیے) دائیوں کے درمیان بیٹھ جائے۔ قاسم بن محمد اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کا عطیہ دینا جائز ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم ان سب باتوں کے قائل ہیں۔