السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يجوز للأسير أو من قدم ليقتل والرجل بين الصفين في ماله باب: قیدی یا جسے قتل کے لیے پیش کیا گیا ہو اور وہ شخص جو دو صفوں (لشکروں) کے درمیان کھڑا ہو، ان کے لیے اپنے مال میں کیا تصرف جائز ہے۔
حدیث نمبر: 18431
وَبِإِسْنَادِهِ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَامَّةَ صَدَقَاتِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَصَدَّقَ بِهَا وَفَعَلَ أُمُورًا وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ يَوْمَ الْجَمَلِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُمَا قَالَا: إِذَا كَانَ الرَّجُلُ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ يُقَاتِلُ فَمَا صَنَعَ فَهُوَ جَائِزٌ. وَرُوِي عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ: عَطِيَّةُ الْحُبْلَى جَائِزَةٌ حَتَّى تَجْلِسَ بَيْنَ الْقَوَابِلِ. وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَابْنُ الْمُسَيِّبِ: عَطِيَّةُ الْحَامِلِ جَائِزَةٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَقُولُ. قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الْوَصَايَا بِطُولِهِ.حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے عام صدقات جو وہ صدقہ کرتے اور بعض کام وہ گھوڑے پر سوار ہو کر سر انجام دیا کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ دونوں گھوڑے پر سوار ہو کر قتال کرتے تھے، جو بھی کیا جائے جائز ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کا عطیہ جائز ہے یہاں تک کہ وہ بچہ جنم دینے کے لیے بیٹھ جائے۔ قاسم بن محمد اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کا عطیہ دینا جائز ہے۔