السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يجوز للأسير أو من قدم ليقتل والرجل بين الصفين في ماله باب: قیدی یا جسے قتل کے لیے پیش کیا گیا ہو اور وہ شخص جو دو صفوں (لشکروں) کے درمیان کھڑا ہو، ان کے لیے اپنے مال میں کیا تصرف جائز ہے۔
حدیث نمبر: 18430
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مُسْرِفًا، قَدَّمَ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ يَوْمَ الْحَرَّةِ لِيَضْرِبَ عُنُقَهُ فَطَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فَسَأَلُوا أَهْلَ الْعِلْمِ فَقَالُوا: لَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ وَلَا مِيرَاثَ لَهَا.حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسرف نے یزید بن عبداللہ کو حرہ کے دن قتل کے لیے پیش کیا۔ انہوں نے اپنی غیر مدخول بہا عورت کو طلاق دے دی۔ انہوں نے اہل علم سے پوچھا تو وہ فرماتے ہیں کہ اس کو آدھا حق مہر ملے گا اور وراثت نہ ملے گی۔