حدیث نمبر: 18432
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ عَلَيْنَا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ وَهُوَ جَدُّ عَاصِمٍ، يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَةِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ، فَنَفَرُوا لَهُمْ بِمِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمُ التَّمْرَ فَقَالُوا: هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لَجَؤُوا إِلَى قَرْدَدٍ يَعْنِي فَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ فَقَالُوا: انْزِلُوا وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا يُقْتَلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ، فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا فَوَاللهِ لَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ الْيَوْمَ، اللهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيِّكَ السَّلَامَ. فَقَاتَلُوهُمْ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ، وَنَزَلَ ثَلَاثَةٌ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ وَكَتَّفُوهُمْ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْهُمْ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ قَالَ: هُوَ وَاللهِ أَوَّلُ الْغَدْرِ. فَعَالَجُوهُ فَقَتَلُوهُ وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ، فَانْطَلَقُوا بِهِمَا إِلَى مَكَّةَ فَبَاعُوهُمَا، وَذَلِكَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَاشْتَرَى بَنُو الْحَارِثِ خُبَيْبًا وَكَانَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَتِ ابْنَةُ الْحَارِثِ: وَكَانَ خُبَيْبٌ أَسِيرًا عِنْدَنَا فَوَاللهِ إِنْ رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ كَانَ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ مِنْ ثَمَرَةٍ، وَإِنْ هُوَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللهُ خُبَيْبًا. قَالَتْ: فَاسْتَعَارَ مِنِّي مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهِ لِلْقَتْلِ. قَالَتْ: فَأَعَرْتُهُ إِيَّاهُ وَدَرَجَ بُنَيٌّ لِي وَأَنَا غَافِلَةٌ فَرَأَيْتُهُ مُجْلِسَهُ عَلَى صَدْرِهِ. قَالَتْ: فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ. ⦗٢٤٦⦘ قَالَتْ: فَفَطِنَ بِي فَقَالَ: أَتَحْسَبِينَنِي أَنِّي قَاتِلُهُ؟ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَهُ. قَالَتْ: فَلَمَّا أَجْمَعُوا عَلَى قَتْلِهِ قَالَ لَهُمْ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ. قَالَتْ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَحْسَبُوا أَنَّ بِي جَزَعًا لَزِدْتُ. قَالَ: فَكَانَ خُبَيْبٌ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الصَّلَاةَ لِمَنْ قُتِلَ صَبْرًا، ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا، وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا، وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا. وَأَنْشَأَ يَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دس افراد کا ایک وفد روانہ کیا جن کا امیر عاصم بن ثابت بن ابی اقلح رضی اللہ عنہ کو بنایا، یہ عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نانا تھے، جب وہ چلے یہاں تک کہ جب عسفان اور مکہ کے درمیان ایک بلند جگہ پر پہنچے تو قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ جسے بنو لحیان کہا جاتا تھا ان کے سامنے ان کا تذکرہ کیا گیا، چنانچہ ان کے تقریباً سو تیر اندازوں نے ان کا پیچھا کیا اور انہیں کھجوریں کھاتے ہوئے پا لیا، انہوں نے کہا: ”یہ یثرب کی کھجوریں ہیں“، جب عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے محسوس کر لیا کہ ان لوگوں نے انہیں گھیر لیا ہے تو انہوں نے کہا: ”تم نیچے اتر آؤ، تمہارے لیے عہد و پیمان ہے کہ ہم تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے“، عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں کسی کافر کے عہد و پیمان پر نہیں اتروں گا، اے اللہ! ہماری جانب سے اپنے نبی ﷺ کو سلام پہنچا دینا“، پس انہوں نے ان سے قتال کیا اور سات صحابہ شہید ہو گئے، تین افراد نے ان کے عہد و پیمان کو قبول کر لیا، جب کفار ان پر غالب آ گئے تو انہوں نے ان کی کمانوں کی تندیاں اتار کر ان کے بازو پچھلی جانب باندھ لیے، جب ان تینوں میں سے ایک نے دیکھا تو کہنے لگا: ”یہ پہلا دھوکا ہے“، تو انہوں نے اسے وہیں شہید کر ڈالا، پھر وہ خبیب بن عدی اور زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما کو مکہ لے آئے اور انہیں فروخت کر دیا، یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے، بنو حارث بن عامر بن نوفل نے خبیب رضی اللہ عنہ کو خرید لیا کیونکہ خبیب رضی اللہ عنہ نے ہی بدر کے دن حارث کو قتل کیا تھا، حارث کی بیٹی کہتی ہے کہ خبیب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس قیدی تھے، اللہ کی قسم! میں نے خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! میں نے انہیں انگور کا خوشہ کھاتے ہوئے دیکھا جبکہ وہ بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور اس وقت مکہ میں کوئی پھل میسر نہ تھا، یہ وہ رزق تھا جو اللہ رب العزت نے خبیب رضی اللہ عنہ کو عطا کیا تھا، وہ کہتی ہیں: خبیب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے استرا مانگا تاکہ قتل ہونے کی تیاری کے لیے زیرِ ناف بال صاف کریں، میں نے انہیں دے دیا، پھر میرا چھوٹا بیٹا میری غفلت کی وجہ سے رینگتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا، جب میں نے دیکھا تو وہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا تھا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا، میں یہ دیکھ کر بے حد گھبرائی جسے خبیب رضی اللہ عنہ پہچان گئے اور فرمایا: ”کیا تم یہ گمان رکھتی ہو کہ میں اسے قتل کر دوں گا؟ ان شاء اللہ میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں“، وہ کہتی ہیں کہ جب تمام لوگ انہیں قتل کرنے کے لیے جمع ہو گئے تو انہوں نے کہا: ”مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو“، چنانچہ خبیب رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز ادا کی اور فرمانے لگے: ”اگر تم میرے بارے میں یہ خیال نہ کرتے کہ میں ڈر گیا ہوں تو میں مزید نماز ادا کرتا“، راوی کہتے ہیں کہ خبیب رضی اللہ عنہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے باندھ کر قتل کیے جانے والے مسلمان کے لیے نماز پڑھنے کی سنت جاری کی اور پھر یہ بددعا کی: ”اے اللہ! ان کو شمار کر لے اور ان کو ایک ایک کر کے قتل کرنا، ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑنا“، اور وہ یہ اشعار پڑھ رہے تھے: ”مجھے کوئی پروا نہیں جب میں حالتِ اسلام میں قتل کیا جاؤں کہ کسی پہلو بھی اللہ کی راہ میں مجھے پچھاڑا جائے“
”اور یہ سب اللہ کی رضا کے لیے ہے، اگر وہ چاہے گا تو کٹے ہوئے اعضا کے جوڑوں میں برکت عطا فرما دے گا“، راوی کہتے ہیں کہ قریش نے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی لاش کا ایک ٹکڑا لانے کے لیے کچھ لوگ بھیجے تاکہ ان کی پہچان ہو سکے، کیونکہ انہوں نے بدر کے دن ان کے ایک بڑے سردار کو قتل کیا تھا، تو اللہ رب العزت نے بھڑوں کا ایک غول چھتری کی مانند بھیج دیا جس نے ان کے قاصدوں سے ان کی حفاظت کی، چنانچہ وہ ان کے جسم کا کوئی حصہ نہ لے جا سکے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18432
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٣٠٤٥»