السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأسير يؤخذ عليه أن يبعث إليهم بفداء ويعود في إسارهم باب: قیدی سے اس شرط پر عہد لینے کا بیان کہ وہ انہیں فدیہ بھیجے گا اور دوبارہ ان کی قید میں لوٹ آئے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ، ثنا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٍ. قَالَ: فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا: إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا، فَقُلْنَا: مَا نُرِيدُهُ مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ فَأَخَذُوا عَلَيْنَا عَهْدَ اللهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ: " انْصَرِفَا، نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَنَسْتَعِينُ بِاللهِ عَلَيْهِمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يُؤَدِّ انْصِرَافُهُمَا إِلَى تَرْكِ فَرْضٍ إِذْ لَمْ يَكُنْ خُرُوجُهُمَا وَاجِبًا عَلَيْهِمَا، وَلَا إِلَى ارْتِكَابِ مَحْظُورٍ، وَالْعَوْدُ إِلَيْهِمْ وَالْإِقَامَةُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مِمَّا لَا يَجُوزُ إِذَا كَانَ يَخَافُ الْفِتْنَةَ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْعَوْدِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں بدر میں حاضر نہ ہوا، اس وجہ سے کہ میں اور میرے والد حسیل نکلے تو کفار قریش نے ہمیں پکڑ لیا، انہوں نے کہا: تم محمد (ﷺ) کا ارادہ رکھتے ہو؟ ہم نے نفی میں جواب دیا کہ ہم مدینہ جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے ہم سے اللہ کا عہد و پیمان لیا کہ ہم مدینہ جائیں گے لیکن آپ ﷺ کے ساتھ مل کر لڑائی نہ کریں گے، ہم نے نبی ﷺ کو آ کر بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم مدینہ جاؤ ہم وعدہ کی پاسداری کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کریں گے“
شیخ فرماتے ہیں: یہ اس لیے ہے کہ ان دونوں کے واپس جانے سے کسی فرض کا ترک لازم نہیں آیا، کیونکہ ان پر نکلنا واجب نہ تھا، اور نہ ہی کسی حرام کا ارتکاب لازم آیا، جبکہ کفار کی طرف لوٹنا اور ان کے درمیان رہنا جائز نہیں جب لوٹنے میں اپنے بارے میں فتنے کا ڈر ہو، واللہ اعلم۔