کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قیدی سے اس شرط پر عہد لینے کا بیان کہ وہ انہیں فدیہ بھیجے گا اور دوبارہ ان کی قید میں لوٹ آئے گا۔
حدیث نمبر: 18427
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: رُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ: يَعُودُ فِي إِسَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُعْطِهِمُ الْمَالَ. قَالَ: وَمَنْ ذَهَبَ مَذْهَبَ الْأَوْزَاعِيِّ وَمَنْ قَالَ بِقَوْلِهِ فَإِنَّمَا يَحْتَجُّ فِيمَا أَرَاهُ بِمَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَالَحَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ أَنْ يَرُدَّ مَنْ جَاءَهُ مِنْهُمْ بَعْدَ الصُّلْحِ مُسْلِمًا، فَجَاءَهُ أَبُو جَنْدَلٍ فَرَدَّهُ إِلَى أَبِيهِ، وَأَبُو بَصِيرٍ فَرَدَّهُ فَقَتَلَ أَبُو بَصِيرٍ الْمَرْدُودَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ وَفَّيْتُ لَهُمْ وَنَجَّانِي اللهُ مِنْهُمْ، فَلَمْ يَرُدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَتَرَكَهُ، فَكَانَ بِطَرِيقِ الشَّامِ يَقْطَعُ عَلَى كُلِّ مَالٍ لِقُرَيْشٍ حَتَّى سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضُمَّهُ إِلَيْهِ لِمَا نَالَهُمْ مِنْ أَذَاهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ بَعْضُ أَهْلِ الْمَغَازِي كَمَا وَصَفْتُ، وَلَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُ إِسْنَادِهِ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ: ’اگر وہ انہیں مال نہ دے تو ان کی قید میں واپس لوٹ جائے۔‘“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور جو شخص امام اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب اختیار کرے اور جو ان کے قول کا قائل ہو، تو میرے خیال میں وہ صرف اس روایت سے استدلال کرتا ہے جو ان میں سے بعض سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل حدیبیہ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ صلح کے بعد ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر آپ ﷺ کے پاس آئے گا آپ اسے واپس لوٹا دیں گے، چنانچہ سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں ان کے والد کی طرف لوٹا دیا، اور سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے انہیں (بھی) لوٹا دیا، پھر ابو بصیر نے اس شخص کو قتل کر دیا جس کے ساتھ انہیں واپس بھیجا گیا تھا، پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ’میں نے ان کے ساتھ (عہد) پورا کر دیا اور اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔‘ تو نبی کریم ﷺ نے انہیں واپس نہیں لوٹایا اور نہ اس پر ان کی سرزنش کی، بلکہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا، چنانچہ وہ شام کے راستے پر (رہ کر) قریش کے ہر مال (تجارتی قافلے) پر حملہ کرتے رہے، یہاں تک کہ قریش نے ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ انہیں اپنے پاس بلا لیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ حدیث بعض اہل مغازی (سیرت نگاروں) نے اسی طرح روایت کی ہے جیسے میں نے بیان کی ہے، اور اس کی سند کا ذکر اس وقت مجھے یاد نہیں۔“...
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18427
حدیث نمبر: 18427
قَالَ الشَّيْخُ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرَ حَدِيثَ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَذَكَرَ فِيهِ قِصَّةَ أَبِي جَنْدَلٍ وَأَبِي بَصِيرٍ بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا وَأَتَمَّ مِنْهُ ⦗٢٤٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَيْهِمْ؛ لَأَنَّهُ كَانَ لَا يَخَافُ عَلَيْهِ فِي الرَّدِّ لِمَكَانِ أَبِيهِ، وَكَذَلِكَ أَشَارَ عَلَى أَبِي بَصِيرٍ بِالرُّجُوعِ إِلَيْهِمْ فِي الِابْتِدَاءِ لِذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ وَسَيَرِدُ كَلَامُ الشَّافِعِيِّ إِنْ شَاءَ اللهُ عَلَيْهِ فِي كِتَابِ الْجِزْيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ اور مسروق بن حکم رضی اللہ عنہما نے صلحِ حدیبیہ کی حدیث ذکر کی، اس میں ابو جندل رضی اللہ عنہ اور ابو بصیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا اور وہ اس سے زیادہ مکمل بھی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابو جندل رضی اللہ عنہ کو صرف اس لیے واپس فرمایا کہ مرتد ہونے کا خطرہ نہ تھا اور اسی طرح ابتدا میں ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو واپس کردیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18427
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٢٨٣٤٢»
حدیث نمبر: 18428
وَفِي مِثْلِ هَذَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ بِكِتَابٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَاللهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ أَبَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ، وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي قَلْبِكَ الَّذِي فِي قَلْبِكَ الْآنَ فَارْجِعْ ". قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ قَالَ بُكَيْرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش کا خط نبی ﷺ کے پاس آیا۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام پختہ ہو گیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں واپس نہ جاؤں گا، تو نبی ﷺ نے فرمایا: «إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ، وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ» ”میں عہد کو نہیں توڑتا اور نہ ہی قاصد کو روکتا ہوں۔ جاؤ! اگر آپ کے دل میں یہی بات ہے تو واپس پلٹ آنا۔“ کہتے ہیں: میں واپس چلا گیا اور واپس آ کر مسلمان ہو گیا اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ قبطی آدمی تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18428
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18429
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ، ثنا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٍ. قَالَ: فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا: إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا، فَقُلْنَا: مَا نُرِيدُهُ مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ فَأَخَذُوا عَلَيْنَا عَهْدَ اللهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ: " انْصَرِفَا، نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَنَسْتَعِينُ بِاللهِ عَلَيْهِمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يُؤَدِّ انْصِرَافُهُمَا إِلَى تَرْكِ فَرْضٍ إِذْ لَمْ يَكُنْ خُرُوجُهُمَا وَاجِبًا عَلَيْهِمَا، وَلَا إِلَى ارْتِكَابِ مَحْظُورٍ، وَالْعَوْدُ إِلَيْهِمْ وَالْإِقَامَةُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مِمَّا لَا يَجُوزُ إِذَا كَانَ يَخَافُ الْفِتْنَةَ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْعَوْدِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں بدر میں حاضر نہ ہوا، اس وجہ سے کہ میں اور میرے والد حیل نامی جگہ گئے تو کفار قریش نے پکڑ لیا، انہوں نے کہا: تم مکہ کا ارادہ رکھتے ہو؟ ہم نے نفی میں جواب دیا کہ ہم مدینہ جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے ہم سے وعدہ لیا کہ وہ مدینہ جائیں گے لیکن آپ ﷺ کے ساتھ مل کر لڑائی نہ کریں گے، ہم نے نبی ﷺ کو آ کر بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم مدینہ جاؤ ہم وعدہ کی پاسداری کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کریں گے“
شیخ فرماتے ہیں: قرض کے ترک کی وجہ سے وہ واپس نہیں ہوئے، جب ان پر نکلنا بھی فرض نہ تھا اور نہ ہی انہوں نے حرام کا ارتکاب کیا، قیام و قعود میں ان کے لیے فتنہ کا ڈر تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18429
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٧٨٧»