حدیث نمبر: 18425
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ: خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ وَكَانَ رَجُلًا مَأْمُونًا، وَكَانَتْ مَعَهُ بَضَائِعُ لِقُرَيْشٍ فَأَقْبَلَ قَافِلًا، فَلَقِيَهُ سَرِيَّةٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقُوا عِيرَهُ ⦗٢٤٢⦘ وَأَفْلَتَ، وَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا أَصَابُوا فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ، وَأَتَى أَبُو الْعَاصِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَاسْتَجَارَ بِهَا، وَسَأَلَهَا أَنْ تَطْلُبَ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ مَالِهِ عَلَيْهِ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّرِيَّةَ فَسَأَلَهُمْ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَدَّى عَلَى النَّاسِ مَا كَانَ مَعَهُ مِنْ بَضَائِعِهِمْ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ هَلْ بَقِيَ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ مَعِي مَالٌ لَمْ أَرُدَّهُ عَلَيْهِ؟ قَالُوا: لَا، فَجَزَاكَ اللهُ خَيْرًا قَدْ وَجَدْنَاكَ وَفِيًّا كَرِيمًا. فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أُسْلِمَ قَبْلَ أَنْ أَقْدَمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَخَوُّفًا أَنْ تَظُنُّوا أَنِّي إِنَّمَا أَسْلَمْتُ لِأَذْهَبَ بِأَمْوَالِكُمْ، فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي الْمُسْلِمِ إِذَا أُسِرَ وَلَمْ يُؤَمِّنُوهُ وَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَيْهِ أَنَّهُمْ آمِنُونَ مِنْهُ فَلَهُ أَخْذُ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَإِفْسَادُهُ وَالْهَرَبُ مِنْهُمْ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَيْنَا حَدِيثَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ الَّتِي أَخَذَتِ النَّاقَةَ وَهَرَبَتْ عَلَيْهَا.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ شام کی جانب تجارت کی غرض سے نکلے اور یہ ایسے شخص تھے جنہیں امان حاصل تھی۔ ان کے پاس قریش کا مال بھی تھا۔ جب قافلہ آیا تو رسول اللہ ﷺ کے لشکر نے اس قافلے کو آپ ﷺ کے سامنے پیش کر دیا اور مال آپس میں تقسیم کر لیا۔ ابو العاص رضی اللہ عنہ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر پناہ طلب کی اور ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے ان کے مال اور لوگوں کے مال کو واپس کرنے کا مطالبہ کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے سریے والوں کو بلا کر پوچھا تو انہوں نے مال واپس کر دیا۔ ابو العاص رضی اللہ عنہ نے مکہ آ کر لوگوں کے مال واپس کر دیے۔ فارغ ہونے کے بعد کہنے لگے: ”اے قریش کے گروہ! کیا کسی کا مال ہے کہ میں نے واپس نہ کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ ہم نے تجھے معزز ادا کرنے والا پایا ہے۔“ پھر کہا: ”میں نے اسلام صرف اس ڈر سے نہ قبول کیا کہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ ہمارے مال ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: جب قیدی بنایا جائے اور امان بھی نہ دی ہو اور وعدہ بھی نہ لیا ہو تو وہ ان کے مال کو حسبِ قدرت لے سکتا ہے، خراب کرے یا لے کر بھاگ جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ مسلمہ عورت جو اونٹنی لے کر بھاگ گئی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18425
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»