کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قیدی کو جب امان دے دی جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان (دشمنوں) کی جانوں اور مالوں کے حوالے سے دھوکہ دہی کرے۔
حدیث نمبر: 18421
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهُمْ إِذَا أَمَّنُوهُ فَهُمْ فِي أَمَانٍ مِنْهُ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ جب انہوں نے اسے امان دے دی تو وہ (بھی) اس کی طرف سے امان میں ہیں۔“...
حدیث نمبر: 18421
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن ہر دھوکا کرنے والے انسان کے لیے ایک جھنڈا ہوگا، کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔“
حدیث نمبر: 18422
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَدَّثَنِي ⦗٢٤١⦘ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَمَّنَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ عَلَى نَفْسِهِ ثُمَّ قَتَلَهُ فَأَنَا بَرِيءٌ مِنَ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی کسی شخص کو امان دے کر قتل کر دے تو میں قاتل سے بری الذمہ ہوں، اگرچہ مقتول کافر ہی کیوں نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 18423
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: كُنْتُ أُبْطِنُ شَيْئًا بِالْمُخْتَارِ، يَعْنِي الْكَذَّابَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: دَخَلْتَ وَقَدْ قَامَ جِبْرِيلُ قَبْلُ مِنْ هَذَا الْكُرْسِيِّ. قَالَ: فَأَهْوَيْتُ إِلَى قَائِمِ السَّيْفِ فَقُلْتُ: مَا أَنْتَظِرُ أَنْ أَمْشِيَ بَيْنَ رَأْسِ هَذَا وَجَسَدِهِ حَتَّى ذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَمَّنَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ عَلَى دَمِهِ ثُمَّ قَتَلَهُ رُفِعَ لَهُ لِوَاءُ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَكَفَفْتُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
رفاعہ بن شداد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کپڑے کے نیچے مختار (کذاب) کے لیے کوئی چیز چھپائی۔ کہتے ہیں: میں ایک دن اس کے پاس گیا، اس نے کہا: تو آیا ہے، جبرائیل علیہ السلام اس کرسی پر پہلے کھڑے تھے، تو میں تلوار کے دستے کی جانب جھکا۔ میں نے کہا کہ میں اسے مہلت نہ دوں گا یہاں تک کہ میں اس کے سر اور جسم کے درمیان چلوں۔ لیکن پھر مجھے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کی حدیث یاد آگئی کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”جب کوئی شخص کسی فرد کو جان کی امان دے کر قتل کر دے تو قیامت کے دن اس کے لیے عہد شکنی کا جھنڈا لگایا جائے گا۔“ تو میں اس سے رک گیا۔
حدیث نمبر: 18424
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ، خَرَجَتْ سَرِيَّةٌ فَأَخَذُوا إِنْسَانًا مَعَهُ غَنَمٌ يَرْعَاهَا فَجَاؤُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يُكَلِّمَهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي قَدْ آمَنْتُ بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَكَيْفَ بِالْغَنَمِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَإِنَّهَا أَمَانَةٌ وَهِيَ لِلنَّاسِ الشَّاةُ وَالشَّاتَانِ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: " احْصِبْ وُجُوهَهَا تَرْجِعْ إِلَى أَهْلِهَا". فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءَ أَوْ تُرَابٍ فَرَمَى بِهِ وَجُوهِهَا فَخَرَجَتْ تَشْتَدُّ حَتَّى دَخَلَتْ كُلُّ شَاةٍ إِلَى أَهْلِهَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى الصَّفِّ فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ وَلَمْ يُصَلِّ لِلَّهِ سَجْدَةً قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَدْخِلُوهُ الْخِبَاءَ"، فَأُدْخِلَ خِبَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: " لَقَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ صَاحِبِكُمْ، لَقَدْ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَإِنَّ عِنْدَهُ لَزَوْجَتَيْنِ لَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ". لَمْ أَكْتُبْهُ مَوْصُولًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ. ورُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا، وَرُوِي عَنْ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ فِيهِ قِصَّةٌ شَبِيهَةٌ بِهَذِهِ، إِلَّا أَنَّهَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر میں ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے۔ ایک چھوٹا لشکر نکلا، انہوں نے ایک انسان کو پکڑا جو بکریاں چرا رہا تھا۔ اسے لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اس سے بات چیت کی جو اللہ نے چاہا تو اس شخص نے کہا: میں آپ پر اور جو آپ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان رکھتا ہوں، اے اللہ کے رسول! بکریوں کا کیا بنے گا؟ کیونکہ یہ امانت ہے کسی کی ایک اور دو یا اس سے بھی زائد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان کے چہروں پر کنکریاں پھینک یہ بکریاں اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائیں گی۔“ اس نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی لی اور ان بکریوں کی طرف پھینکی تو وہ بھاگتی ہوئی ہر بکری اپنے مالکوں کے پاس پہنچ گئی۔ پھر یہ شخص مجاہدین کی صف میں کھڑا ہوا تو ایک تیر لگنے کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگیا اور اس نے اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کو خیمے میں داخل کر دو“ تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خیمے میں داخل کردیا۔ جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے اس کے پاس آئے، پھر نکلے تو فرمایا: ”تمہارے ساتھی کا اسلام اچھا تھا، میں اس کے پاس گیا تو اس کی دو بیویاں حور العین سے اس کے پاس موجود تھیں۔“
حدیث نمبر: 18425
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ: خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ وَكَانَ رَجُلًا مَأْمُونًا، وَكَانَتْ مَعَهُ بَضَائِعُ لِقُرَيْشٍ فَأَقْبَلَ قَافِلًا، فَلَقِيَهُ سَرِيَّةٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقُوا عِيرَهُ ⦗٢٤٢⦘ وَأَفْلَتَ، وَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا أَصَابُوا فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ، وَأَتَى أَبُو الْعَاصِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَاسْتَجَارَ بِهَا، وَسَأَلَهَا أَنْ تَطْلُبَ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ مَالِهِ عَلَيْهِ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّرِيَّةَ فَسَأَلَهُمْ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَدَّى عَلَى النَّاسِ مَا كَانَ مَعَهُ مِنْ بَضَائِعِهِمْ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ هَلْ بَقِيَ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ مَعِي مَالٌ لَمْ أَرُدَّهُ عَلَيْهِ؟ قَالُوا: لَا، فَجَزَاكَ اللهُ خَيْرًا قَدْ وَجَدْنَاكَ وَفِيًّا كَرِيمًا. فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أُسْلِمَ قَبْلَ أَنْ أَقْدَمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَخَوُّفًا أَنْ تَظُنُّوا أَنِّي إِنَّمَا أَسْلَمْتُ لِأَذْهَبَ بِأَمْوَالِكُمْ، فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي الْمُسْلِمِ إِذَا أُسِرَ وَلَمْ يُؤَمِّنُوهُ وَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَيْهِ أَنَّهُمْ آمِنُونَ مِنْهُ فَلَهُ أَخْذُ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَإِفْسَادُهُ وَالْهَرَبُ مِنْهُمْ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَيْنَا حَدِيثَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ الَّتِي أَخَذَتِ النَّاقَةَ وَهَرَبَتْ عَلَيْهَا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ شام کی جانب تجارت کی غرض سے نکلے اور یہ ایسے شخص تھے جنہیں امان حاصل تھی۔ ان کے پاس قریش کا مال بھی تھا۔ جب قافلہ آیا تو رسول اللہ ﷺ کے لشکر نے اس قافلے کو آپ ﷺ کے سامنے پیش کر دیا اور مال آپس میں تقسیم کر لیا۔ ابو العاص رضی اللہ عنہ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر پناہ طلب کی اور ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے ان کے مال اور لوگوں کے مال کو واپس کرنے کا مطالبہ کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے سریے والوں کو بلا کر پوچھا تو انہوں نے مال واپس کر دیا۔ ابو العاص رضی اللہ عنہ نے مکہ آ کر لوگوں کے مال واپس کر دیے۔ فارغ ہونے کے بعد کہنے لگے: ”اے قریش کے گروہ! کیا کسی کا مال ہے کہ میں نے واپس نہ کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ ہم نے تجھے معزز ادا کرنے والا پایا ہے۔“ پھر کہا: ”میں نے اسلام صرف اس ڈر سے نہ قبول کیا کہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ ہمارے مال ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: جب قیدی بنایا جائے اور امان بھی نہ دی ہو اور وعدہ بھی نہ لیا ہو تو وہ ان کے مال کو حسبِ قدرت لے سکتا ہے، خراب کرے یا لے کر بھاگ جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ مسلمہ عورت جو اونٹنی لے کر بھاگ گئی تھی۔
امام شافعی رحمہ اللہ مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: جب قیدی بنایا جائے اور امان بھی نہ دی ہو اور وعدہ بھی نہ لیا ہو تو وہ ان کے مال کو حسبِ قدرت لے سکتا ہے، خراب کرے یا لے کر بھاگ جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ مسلمہ عورت جو اونٹنی لے کر بھاگ گئی تھی۔