حدیث نمبر: 18426
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ قِيلَ يُقَاتِلُهُمْ، قَدْ قَاتَلَ الزُّبَيْرُ وَأَصْحَابٌ لَهُ بِبِلَادِ الْحَبَشَةِ مُشْرِكِينَ عَنْ مُشْرِكِينَ، وَلَوْ قَالَ قَائِلٌ: يَمْتَنِعُ عَنْ قِتَالِهِمْ لِمَعَانٍ ذَكَرَهَا الشَّافِعِيُّ كَانَ مَذْهَبًا، وَلَا نَعْلَمُ خَبَرَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَثْبُتُ، وَلَوْ ثَبَتَ كَانَ النَّجَاشِيُّ مُسْلِمًا كَانَ آمَنَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا گیا ہے کہ وہ ان سے لڑے گا، (کیونکہ) سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ ساتھیوں نے حبشہ کے علاقے میں مشرکین کی طرف سے (دوسرے) مشرکین سے جنگ کی تھی، اور اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ وہ ان وجوہات کی بنا پر ان کے ساتھ لڑنے سے باز رہے گا جو امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں تو یہ بھی ایک مذہب ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ والی خبر ثابت ہے، اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو نجاشی مسلمان تھے، وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لا چکے تھے اور نبی کریم ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔“...

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا ضَاقَتْ عَلَيْنَا مَكَّةُ فَذَكَرَتِ الْحَدِيثَ فِي هِجْرَتِهِمْ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَمَا كَانَ مِنْ بِعْثَةِ قُرَيْشٍ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ إِلَى النَّجَاشِيِّ لِيُخْرِجَهُمْ مِنْ بِلَادِهِ وَيَرُدَّهُمْ عَلَيْهِمْ، وَمَا كَانَ مِنْ دُخُولِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَلَى النَّجَاشِيِّ قَالَ: فَقَالَ النَّجَاشِيُّ: هَلْ مَعَكُمْ شَيْءٌ مِمَّا جَاءَ بِهِ؟ فَقَالَ لَهُ جَعْفَرٌ: نَعَمْ. فَقَرَأَ عَلَيْهِ صَدْرًا مِنْ كهيعص فَبَكَى وَاللهِ النَّجَاشِيُّ حَتَّى أَخْضَلَ لِحْيَتَهُ، وَبَكَتْ أَسَاقِفَتُهُ حَتَّى أَخْضَلُوا مَضَاجِعَهُمْ، ⦗٢٤٣⦘ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْكَلَامَ لَيَخْرُجُ مِنَ الْمِشْكَاةِ الَّتِي جَاءَ بِهِ مُوسَى، انْطَلِقُوا رَاشِدِينَ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي تَصْوِيرِهِمَا لَهُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ بَطَارِقَتُهُ فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ فَقَالَ لَهُ جَعْفَرٌ: نَقُولُ: هُوَ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ. فَدَلَّى النَّجَاشِيُّ يَدَهُ إِلَى الْأَرْضِ فَأَخَذَ عُوَيْدًا بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ فَقَالَ: مَا عَدَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ مَا قُلْتَ هَذَا الْعُوَيْدَ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَتْ: فَلَمْ يَنْشَبْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْحَبَشَةِ يُنَازِعُهُ فِي مُلْكِهِ، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُنَا حَزِنَّا حُزْنًا قَطُّ كَانَ أَشَدَّ مِنْهُ فَرَقًا مِنْ أَنْ يَظْهَرَ ذَلِكَ الْمَلِكُ عَلَيْهِ فَيَأْتِي مَلِكٌ لَا يَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا كَانَ يَعْرِفُ، فَجَعَلْنَا نَدْعُو اللهَ وَنَسْتَنْصِرُهُ لِلنَّجَاشِيِّ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ سَائِرًا فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَنْ رَجُلٌ يَخْرُجُ فَيَحْضُرُ الْوَقْعَةَ حَتَّى يَنْظُرَ عَلَى مَنْ تَكُونُ؟ فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا: أَنَا. فَنَفَخُوا لَهُ قِرْبَةً فَجَعَلَهَا فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ خَرَجَ يَسْبَحُ عَلَيْهَا فِي النِّيلِ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الشِّقَّةِ الْأُخْرَى إِلَى حَيْثُ الْتَقَى النَّاسُ، فَحَضَرَ الْوَقْعَةَ وَهَزَمَ اللهُ ذَلِكَ الْمَلِكَ وَقَتْلَهُ وَظَهَرَ النَّجَاشِيُّ عَلَيْهِ، فَجَاءَنَا الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَعَلَ يُلِيحُ إِلَيْنَا بِرِدَائِهِ وَيَقُولُ: أَلَا أَبْشِرُوا فَقَدْ أَظْهَرَ اللهُ النَّجَاشِيَّ، فَوَاللهِ مَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ فَرَحَنَا بِظُهُورِ النَّجَاشِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مکہ کی زمین ہمارے اوپر تنگ ہو گئی۔۔۔ انھوں نے اپنی ہجرتِ حبشہ کا قصہ ذکر کیا اور قریش کا عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو نجاشی کے پاس روانہ کرنا تاکہ وہ مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال دے اور ان کے پاس واپس کر دے اور سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور دیگر ساتھی نجاشی کے پاس گئے تو نجاشی نے پوچھا: وہ نبی تمہارے پاس کیا لے کر آئے ہیں؟ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، اور سورہ مریم کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنائیں تو نجاشی کی روتے روتے داڑھی تر ہوگئی اور ان کے پادریوں کے روتے ہوئے مصاحف بھی تر ہوگئے۔ اس نے کہا کہ یہ کلام تو وہیں سے آتا ہے جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا۔ تم ہدایت یافتہ ہو کر چلو۔ پھر اس نے ان کے تصورات کے بارے میں حدیث ذکر کی کہ وہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بندہ خیال کرتے ہیں۔ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آئے جو رات کو ان کے پاس تھے کہ تم سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جو اللہ نے سیدتنا مریم رضی اللہ عنہا میں پھونک ڈالا، تو نجاشی نے زمین سے ایک تنکا پکڑ کر کہا کہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اس تنکے سے زیادہ (بڑھ کر) نہ تھے جو اس نے ان کے بارے میں کہا۔ پھر اس نے حدیث ذکر کی۔ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر حبشی شخص اس کی بادشاہت کے بارے میں جھگڑا کرے گا۔ اللہ کی قسم! ہمیں یہ جان کر بہت غم ہوا کہ کوئی دوسرا بادشاہ اس پر غلبہ حاصل کرلے کہ وہ ایسا بادشاہ ہو جو ہمارے حقوق کو نہ جانتا ہو جن کو یہ جانتا ہے۔ ہم نے اللہ سے دعا کی اور نجاشی کے لیے مدد طلب کر رہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: کون اس واقعہ میں حاضر ہو کر دیکھے گا کہ کیا بنتا ہے؟ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے حامی بھری۔ یہ ابھی نوجوان تھے۔ انھوں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک تکیے کے اندر ہوا بھر دی جس کے اوپر تیر کر انھوں نے دریائے نیل کو عبور کرلیا اور دوسری جانب جا پہنچے جہاں لڑائی ہو رہی تھی۔ جنگ ہوئی تو اللہ نے اس بادشاہ کو شکست دی اور وہ مارا گیا۔ نجاشی کو فتح نصیب ہوئی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے چادر ہلا کر ہمیں اطلاع دی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اللہ نے نجاشی کو فتح نصیب فرمائی ہے، تو ہمیں نجاشی کی فتح کی بڑی خوشی ہوئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18426
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»