السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا أخذت عنوة فوقفت للمسلمين بطيب أنفس الغانمين لم يجز بيعها إذا أسلم من هي في يده لم يسقط خراجها باب: وہ زمین جو طاقت کے زور پر فتح کی جائے پھر غازیوں کی خوش دلی سے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کی فروخت جائز نہیں، اور اگر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ زمین ہے مسلمان ہو جائے تو اس کا خراج ساقط نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18418
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: ⦗٢٤٠⦘ أَسْلَمَ دُهْقَانٌ مِنْ أَهْلِ عَيْنِ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَّا جِزْيَةُ رَأْسِكَ فَنَرْفَعُهَا، وَأَمَّا أَرْضُكَ فَلِلْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ شِئْتَ فَرَضْنَا لَكَ وَإِنْ شِئْتَ جَعَلْنَاكَ قَهْرَمَانًا لَنَا، فَمَا أَخْرَجَ اللهُ مِنْهَا مِنْ شَيْءٍ أَتَيْتَنَا بِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابو عون فرماتے ہیں کہ اہل عین التمر کا ایک تاجر مسلمان ہو گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم تیرا جزیہ ختم کر دیتے ہیں، تیری زمین مسلمانوں کے لیے ہو گی۔ اگر آپ چاہو تو آپ کے لیے جزیہ مقرر کر دیتے ہیں اور اگر آپ چاہو تو ہم آپ کو قہرمان عطا کر دیتے ہیں۔ جو اللہ رب العزت اس سے پیدا فرمائے وہ آپ ہمارے پاس لے کر آئیں گے۔