السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأسير يؤخذ عليه العهد أن لا يهرب باب: قیدی سے اس بات کا عہد لینے کا بیان کہ وہ فرار نہیں ہوگا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَمَتَى قَدَرَ عَلَى الْخُرُوجِ مِنْهَا فَلْيَخْرُجْ؛ لِأَنَّ يَمِينَهُ يَمِينُ مُكْرَهٍ. قَالَ: وَلَعَلَّهُ لَيْسَ بِوَاسِعٍ لَهُ أَنْ يُقِيمَ مَعَهُمْ إِذَا قَدَرَ عَلَى التَّنَحِّي عَنْهُمْ..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس جب بھی وہ اس (دار الحرب) سے نکلنے پر قادر ہو تو نکل جائے، کیونکہ اس کی قسم مجبور کیے گئے شخص کی قسم ہے۔“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور شاید اس کے لیے یہ گنجائش نہیں کہ وہ ان کے ساتھ مقیم رہے جبکہ وہ ان سے الگ ہونے پر قادر ہو۔“...
وَقَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْهُمْ بِالسُّجُودِ، وَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مُقِيمٍ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَلِمَ؟ قَالَ: " لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا ".جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ خثعم کی جانب ایک لشکر روانہ کیا تو لوگوں نے سجدے کے ذریعے بچاؤ اختیار کیا۔ لشکر والوں نے ان کے قتل میں جلدی کی۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے نصف دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ فرمایا: ”وہ ایک دوسرے کی آگ کو نہ دیکھیں۔“