السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا أخذت عنوة فوقفت للمسلمين بطيب أنفس الغانمين لم يجز بيعها إذا أسلم من هي في يده لم يسقط خراجها باب: وہ زمین جو طاقت کے زور پر فتح کی جائے پھر غازیوں کی خوش دلی سے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کی فروخت جائز نہیں، اور اگر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ زمین ہے مسلمان ہو جائے تو اس کا خراج ساقط نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18417
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: أَسْلَمَ دُهْقَانٌ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ فِي عَهْدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنْ أَقَمْتَ فِي أَرْضِكَ رَفَعْنَا الْجِزْيَةَ عَنْ رَأْسِكَ وَأَخَذْنَا مِنْ أَرْضِكَ، وَإِنْ تَحَوَّلْتَ عَنْهَا فَنَحْنُ أَحَقُّ بِهَا.حافظ ثناء اللہ
زبیر بن عدی فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور میں اہل سواد کے ایک تاجر نے اسلام قبول کر لیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اگر تو اپنی زمین پر رہے تو ہم تیرا جزیہ ختم کر دیتے ہیں اور تیری زمین کا جزیہ وصول کریں گے۔ اگر تو اس سے منتقل ہو جائے تو اس زمین کے ہم زیادہ حق دار ہیں۔